خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 166 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 166

خطبات محمود 144, سال ۱۹۳۴۲ء یہ وہ عبودیت ہے جس کا صحابہ نے اظہار کیا کہ جس وقت خدا تعالیٰ کے رسول کی آواز سنائی دی وہ فوراً واپس لوٹ پڑے۔اور اگر کسی کا اونٹ یا گھوڑا نہیں لوٹا تو اس نے اس کی گردن کاٹ دی۔یہی چیز بتاتی ہے کہ عبد حقیقی وہی ہے جو خدا اور اس کے رسول کی آواز سن کر فوراً اس کے پیچھے چل پڑے۔ورنہ اگر آواز آتی رہتی ہے مگر وہ اس کی پرواہ نہیں کرتا تو وہ عبد کہلانے کا مستحق نہیں ہو سکتا۔دنیا میں بھی دیکھ لو وہی ملازم قابل قدر سمجھا جاتا ہے جو اپنے آقا کی فرمانبرداری کرتا اور اس کی آواز کو سن کر اس پر عمل کرتا ہے ورنہ اگر کوئی فرمانبرداری نہ کرے تو وہ آقا کی نظروں سے گر جاتا ہے۔پس حقیقی عبودیت پیدا کرنا ہمارا کام ہے۔جب تک ہم اپنے اندر یہ والہیت اور قربانی کی روح نہیں پاتے کہ خدا کی آواز سن کر اس کے پیچھے چل پڑیں۔اور چاہے تصنع سے ہی کام کریں مگر حکم کو بجالائیں اُس وقت تک ہمیں اپنی پیدائش کا مقصد بھی حاصل نہیں ہو سکتا۔اول تو ہماری یہی خواہش ہونی چاہیئے کہ ہم ولی اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے احکام کو بجالائیں اور اس کے فرائض کی بجا آوری میں کسی قسم کی تنگی یا کبیدگی محسوس نہ کریں لیکن اگر ایک وقت یہ درجہ حاصل نہیں ہوتا تو انسان کا یہ فرض ہے کہ وہ تصنع ہی سے فرائض سرانجام دے۔آہستہ آہستہ وہ مقام بھی حاصل ہو جائے گا جب دلی بشاشت کے ساتھ امور سرزد ہوں گے اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ اگر کوئی شخص یہ سمجھے کہ دعا کے وقت حقیقی تفریع اس میں پیدا نہیں ہوتا تو وہ مصنوعی طور پر رونے کی کوشش کرے اور اگر وہ ایسا کرے گا تو اس کے نتیجہ میں حقیقی رفت بھی پیدا ہو جائے گی۔پس اگر کسی میں واقعی لکھیت نہیں تو وہ مصنوعی رنگ میں اسے پیدا کرنے کی کوشش کرے اور جس وقت نیکی کیلئے کوئی آواز آئے اس پر عمل کرے۔پھر سچ مچ اس میں حقیقت بھی پیدا ہو جائے گی۔پس سب سے پہلے عبودیت پیدا کرو اور اگر ایک وقت عبودیت نہیں تو اور تصنع سے ہی نیکی کے کام کرو۔یہاں تک کہ حقیقی عبودیت پیدا ہو جائے۔یہ چیز ہے جس کے حصول کی طرف میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں تبلیغ بھی اسی خدائی آواز میں شامل ہے اور اس کیلئے بھی ایک جنون اور عشق کی ضرورت ہے۔جب تک جنون نہ ہو، عشق اور والہیت نہ ہو، اُس وقت تک اس پہلو میں انسان کامیاب نہیں ہو سکتا۔یاد رکھو دنیا میں کبھی دلیل اور عقل نے اصلاح نہیں کی جب بھی دنیا کی اصلاح ہوئی، عشق سے ہوئی۔انسانی حالتوں