خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 138

خطبات محمود ۱۳۸ سال ۱۹۳۴ء یا اس طرح قطرہ قطرہ کر کے دریا بھی بہا دو تب بھی کپڑا صاف نہیں ہوگا لیکن اگر استقلال کے ساتھ چند سیر پانی میں اچھی طرح کوٹ کاٹ کر کپڑا دھویا جائے تو تھوڑی دیر میں ہی صاف ہو جاتا ہے۔پس بے استقلالی اور بے ربطی کے ساتھ کام کرنا طاقت کو ضائع کرنا ہوتا ہے۔اگر آپ لوگوں نے اسی طرح کام کیا کہ کبھی جوش آیا تو ہفتہ میں چار چار دفعہ جماعت کے اجلاس کرلئے اور جوش مٹا تو مہینوں اجلاس منعقد کرنے کا خیال ہی نہ آیا۔یا اجلاس کا انتظام کیا گیا تو کسی نے کہہ دیا میری بیوی بیمار ہے، کسی نے کہہ دیا میری بہن بیمار ہے ، کسی نے کہہ دیا مجھے دفتر میں کام زیادہ ہے اور اس طرح کسی نے ایک اور کسی نے دوسرا بہانہ بنا کر جماعت کے اجلاس میں شمولیت نہ کی تو کوئی نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس لئے فرمایا کرتے تھے الْاِسْتِقَامَةُ فَوْقَ الْكَرَامَةِ یعنی استقامت کرامت سے بھی زیادہ اہمیت رکھنے والی چیز ہے کیونکہ کرامت خدا کی طرف سے آتی ہے اور جو چیز خدا کی طرف سے آئے وہ آسان ہوتی ہے۔مگر استقامت بندے نے پیدا کرنی ہوتی ہے اور بندے کا اپنے اندر کوئی خوبی پیدا کرنا مجاہدہ چاہتا ہے۔پس آپ نے فرمایا تم اس حصہ کو بھاری اور مشکل سمجھتے ہو جو خدا سے تعلق رکھتا ہے حالانکہ مشکل حصہ وہ ہے جو بندے سے تعلق رکھتا ہے۔لوگ سوال کرتے رہتے ہیں۔خدا بولتا کیسے ہے، الہام کس طرح ہوا کرتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ مشکل بات ہے حالانکہ اگر انسان اپنے اندر الہام نازل ہونے والی کیفیت پیدا کرلے تو خدا اس سے بول سکتا ہے۔پس اس کا مطلب یہ ہے کہ استقامت اہم اور زیادہ مشکل ہے کیونکہ یہ بندے سے تعلق رکھتی ہے لیکن خدا کیلئے کرامت دکھانا بالکل آسان ہے۔ہاں استقامت جو کرامت کو جذب کرنے والی ہوتی ہے ، مشکل ہے۔لوگوں میں یہ ایک عام مرض ہے کہ وہ مستقیم نہیں ہوتے بلکہ ڈانواڈول رہتے ہیں۔کبھی نماز کا خیال آیا تو ساری ساری رات پڑھتے رہے اور جب نماز چھوڑی تو مہینوں اس کا خیال تک نہ آیا دعائیں مانگنے پر آئے تو ماتھے رکھنے لگے اور جب خیال ہٹا تو تکلیف میں بھی خدا یاد نہ آیا۔یہ حالت کبھی اچھے نتائج پیدا نہیں کر سکتی بلکہ اچھے نتائج کیلئے ضروری ہے کہ انسان مستقیم ہو۔رسول کریم ﷺ سے ایک دفعہ کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! اعمال میں سے بہتر عمل کون سا ہے۔آپ نے فرمایا خَيْرُ الْأَعْمَالِ اَدْوَمُهَا۔یعنی اعمال میں سے بہتر وہ ہے جس پر مداومت اختیار کی جائے۔خود آپ کی ایک بیوی کا ہی واقعہ ہے کہ ایک دفعہ