خطبات محمود (جلد 15) — Page 137
خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء دیکھ کر جب اپنے اخراجات کا جائزہ لیا تو اسے معلوم ہوا کہ بہت سی چیزیں ضائع ہو جاتی ہیں خصوصاً باورچی خانہ کے متعلق اسے معلوم ہوا کہ وہ کھلا ہے اور کتے بلیاں آکر چیزیں خراب کر جاتی ہیں تب اس نے سختی سے حکم دیا کہ باورچی خانہ کو دروازہ لگادیا جائے اور پھاٹک ہمیشہ بند رہا کرے تا کوئی جانور اندر نہ آسکے۔لطیفہ یوں ہے کہ جب پھاٹک لگا تو سارے گتے رونے لگے کہ اب تو ہم بھوکے مر جائیں گے۔وہ مل کر رو ہی رہے تھے کہ کوئی عمر رسیدہ کتا وہاں آپہنچا۔اُس نے پوچھا کیا بات ہے؟ وہ کہنے لگے آج تک تو جب ہمیں بھوک لگتی ، اس امیر کے باورچی خانہ میں چلے جاتے اور کھا پی آتے مگر اب وہاں دروازہ لگا دیا گیا ہے اور ہمارے لئے اندر داخل ہونے کا کوئی امکان نہیں اب ہم بھوکے مر جائیں گے۔وہ کہنے لگا یہ بیوقوفی کی بات ہے بیشک پھاٹک تو لگ گیا مگر اسے بند کون کرے گا؟ جس شخص کو اپنے مال کی اتنی بھی فکر نہ ہو کہ ملازموں کی نگرانی کرے اور جن ملازموں کے دل میں اپنے مالک کی اتنی خیر خواہی بھی نہ و کہ وہ اس کے مال کی حفاظت کریں ایسا آقا کب دیکھے گا کہ اس کے نوکر دیانتداری سے کام کرتے ہیں یا نہیں اور ایسے نوکر کب اس امر کا خیال رکھیں گے کہ پھاٹک کھلا رہتا ہے یابند- حقیقت یہ ہے کہ محض نیست یا سامان کی موجودگی سے فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا بلکہ نیت کے بعد سامانوں کے استعمال سے صحیح نتیجہ پیدا ہوا کرتا ہے۔اگر چھ مہینہ یا سال کے بعد ہو ہو مجھے دوبارہ یہاں آنے کا موقع ملے اور جب میں تبلیغی حالات دریافت کروں تو مجھے معلوم : کہ ابھی آپ لوگ مشورے ہی کر رہے اور سوچ رہے ہیں کہ کیونکر کام کریں تو یہ تجاویز کیونکر مفید پھل پیدا کر سکتی ہیں۔پس میں دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ خالی تجاویز کام نہیں دیا کرتیں بلکہ جو چیز کامیاب کیا کرتی ہے وہ استقلال ہے۔یہ استقلال ہی ایسی چیز ہے جو انسان کو عارف بناتی ہے، استقلال ہی ایسی چیز ہے جو انسان کو عالم بناتی ہے اور استقلال ہی ایسی چیز ہے جو انسان کو خداتعالی کا مقرب بناتی ہے۔جب استقلال نہ رہے تو ساری چیزیں خواب پریشاں ہو کر رہ جاتی ہیں اور کچھ فائدہ نہیں دے سکتیں۔لوگ حیران ہوتے ہیں کہ قرآن مجید میں سب کچھ موجود ہے مگر آج ہمارے لئے وہ پھل کیوں پیدا نہیں ہوتے جو پہلوں کیلئے پیدا ہوئے حالانکہ جب تک استقلال سے قرآن مجید پر عمل نہ کیا جائے پھل کیونکر پیدا ہوں جو پہلے لوگوں کیلئے پیدا ہوئے۔ایک دھوبی جتنے پانی سے کپڑے دھولیتا ہے اس سے لاکھ گنا زیادہ پانی بھی اگر قطرہ قطرہ کر کے دو سال تک کسی کپڑے پر ٹپکاتے رہو۔وہ