خطبات محمود (جلد 15) — Page 7
خطبات محمود سال ۱۹۳۴ء ہیں۔حالانکہ اگر ایک بھی ہو تو ہمیں تردّد ہونا چاہیئے۔ان کے علاوہ چھ صد کے قریب ہندو اور سکھ قلوب کی فتح استقلال سے ہوا کرتی ہے۔یہاں کی جماعت میں میں نے یہ نقص دیکھا ہے کہ جب کوئی نیا آدمی یہاں آئے تو لوگ گھبرا جاتے ہیں، حالانکہ یہ کمزوری اور بُزدلی ہے۔میں نے ایک پچھلے خطبے میں بھی کہا تھا کہ شیر کے گھر میں اگر شکار آئے تو وہ خوش ہوتا ہے۔پس بجائے اس کے کہ ہم باہر جا جا کر مولویوں کو تلاش کرتے پھریں، ہمیں چاہیئے کہ ان کے یہاں آنے کیلئے دعائیں کریں۔آخر یہی قادیان ہے جہاں ہمارے اتنے دشمن تھے کہ گلیوں میں چلنا پھرنا بند تھا اور یہیں لیکھرام آکر رہا۔مگر اب تو شاید اس کا کوئی چیلہ بھی آجائے تو بعض لوگ گھبرا جائیں۔جنہوں نے دنیا کو فتح کرنا ہو وہ کبھی اس طرح گھبرایا نہیں کرتے۔اگر اس میں فکر کی کوئی بات ہو تو سب سے زیادہ فکر مجھے ہونی چاہیئے۔اور اگر تمہاری ایک وقت کی نیند حرام ہوتی ہے تو میری مہینوں کی ہونی چاہیئے۔مگر مجھے تو کبھی فکر نہیں ہوا کہ کیا ہوگا۔اور ہونا کیا ہے بس یہی کہ اٹھو اور فتح کرلو۔مثلاً آج کل احراری یہاں آئے ہوئے ہیں۔وہ بھی تو آخر انسان کی نسل سے ہی ہیں۔دماغ ، کان، آنکھیں قلب و جگر عام انسانوں کی طرح رکھتے ہیں اور کیا اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے کہ کوئی احراری احمدی نہیں ہو گا۔سینکڑوں خلافتی بلکہ ان کے کئی پُرجوش ڈکٹیٹر احمدی ہوچکے ہیں حالانکہ تحریک خلافت کے ایام میں احمدیت کے خلاف بھی بہت سخت جوش تھا لیکن بعض ہجرت کرنے والوں میں سے بھی احمدی ہوئے ہیں۔صوفی عبد الغفور صاحب بی۔اے ہجرت کر کے افغانستان گئے۔اور وہاں سے خراب وختہ ہو کر واپس آئے پھر وہ جماعت احمدیہ میں داخل ہو گئے۔اسی طرح چھچھ۔کے لیڈر محمد غوث صاحب بڑے پرجوش خلافتی اور اپنے علاقہ کے لیڈر تھے۔سینکڑوں لوگوں کو انہوں نے قید کرا دیا مگر اب وہ مخلص احمدی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی کچی قربانی کو قبول کیا اور ہدایت قبول کرنے کی توفیق دی۔اسی طرح احراری بھی سارے کے سارے بُرے۔نہیں۔ان میں ہزاروں ہیں جن کے نزدیک اسلام کی خدمت کا صحیح رستہ وہی ہے جو انہوں نے اختیار کر رکھا ہے۔وہ اخلاص سے کام کر رہے ہیں اور اس کے نتیجہ میں ہدایت پاسکتے ہیں۔پس ان سے ملوان کے پاس جاؤ بیٹھو۔انہیں اپنے ہاں بلاؤ بٹھاؤ۔یہاں آریوں کے جلسہ کے موقع پر ایک دفعہ جگہ کا سوال پیدا ہوا تو میں نے کہا کہ ہماری اور جگہ تو کیا تم ہماری مسجد میں جلسہ کر سکتے ہو اور سب احمدی سنیں گے۔اسی طرح ایک بار گاندھی جی نے کسی سے ذکر کی