خطبات محمود (جلد 15) — Page 105
خطبات محمود ۱۰۵ سال ۱۹۳۴ء سلوک کرنا چاہے اُس کیلئے دونوں رنگ اختیار کرنا ضروری ہے۔رَبُّ الْعَلَمِینَ کی صفت کے ماتحت بھی اسے ضرور دینا چاہیے لیکن رحمانیت کے پہلو کو بھی نظر انداز نہ کرنا چاہیئے مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس اثر کے ماتحت رحمانیت کا سلوک کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی اس صفت کو صحیح معنوں میں اپنے اندر جذب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ہمارے دوست اگر اس رنگ میں کام کریں اور اسے مد نظر رکھتے ہوئے اپنی جماعت ، قوم، ملک بلکہ دنیا کی اصلاح کی کوشش کریں تو نہایت اعلیٰ روحانی مدارج حاصل ہو سکتے ہیں۔پس میں سلوک کیلئے نام دینے والوں کہنا چاہتا ہوں کہ رَبُّ الْعَلَمِینَ کی صفت کے ماتحت تو کام ہوتے ہی رہتے ہیں، سے یہ رحمانیت کی صفت کے ماتحت بھی نیکیاں کریں اور اس نیت سے کریں کہ دین کو تقویت ہو۔ان دونوں میں نیت کا فرق ہے۔ربوبیت کرتے وقت صرف شفقت اور رافت مد نظر ہوتی ہے مگر رحمانیت والا آئندہ پر نظر ڈالتا ہے۔رَبُّ الْعَلَمِینَ میں ماضی کی طرف نگاہ ہوتی ہے اور یہ خیال ہوتا ہے کہ تکلیف ڈور ہو لیکن رحمانیت مستقبل کی طرف لے جاتی ہے اور انسان آج ایک کام اس لئے کرتا ہے کہ تا گل یوں ہو۔جیسے میں نے ماں کی مثال دی ہے شاید ہی کوئی ایسی جذبات سے عاری ماں ہو جو بچہ کی اس لئے پرورش کرے کہ یہ بڑا ہو کر کمائے گا اور مجھے کھلائے گا۔عام طور پر یہی جذبہ ہوتا ہے کہ یہ میرا بچہ ہے، اور یہ ربوبیت ہے۔لیکن جب ہم چندہ دیں اور اس خیال سے دیں کہ اس سے دین کو تقویت حاصل ہوگی تو خواہ آگے منتظمین اس سے پوری طرح فائدہ نہ بھی اُٹھائیں ہمیں بہر حال ثواب مل جائے گا اور وہ چندہ بہت زیادہ وقیع ہو گا اس چندہ سے جو بغیر کسی خیال اور ارادہ کے دیا جائے۔یہ ایسی باتیں ہیں کہ اگر انہیں اختیار کرلیا جائے تو ایک عام تغیر جماعت میں پیدا ہو سکتا ہے۔جس سے نفسوں کی کے اندر اصلاح ہو سکتی ہے اور ایسا جذبہ پیدا ہو سکتا ہے کہ انسان سمجھتا ہے آئندہ لوگوں کی اصلاح میرے ذمہ ہے اور وہ اپنے آپ کو دنیا کا مصلح قرار دے لیتا ہے۔یہ چیز ہے جسے سلوک کیلئے مد نظر رکھنا ضروری ہے اور اگر اسے اختیار کیا جائے تو تھوڑے ہی دنوں میں دلوں سے فساد، بغض، کینہ نکل جائے۔کیونکہ ایک شخص جو غریبوں کی خبر گیری کرتا ہے، آئندہ ایسے آدمی تیار کرنے کی کوشش کرتا ہے جو دنیا کا بوجھ اُٹھائیں، وہ سے بدسلوکی کر سکتا ہے۔ایسا انسان ہر ایک سے رافت و محبت سے پیش آئے گا اور ہر ایک کی عزت، مال، جان کو خطرہ میں دیکھ کر اس کیلئے درد محسوس کرتا اور اسے دور کرنا اپنا