خطبات محمود (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 104 of 555

خطبات محمود (جلد 15) — Page 104

خطبات محمود ۱۰۴ سال ۱۹۳۴ء قبیله ساتھ کوئی اچھا سلوک نہیں کیا تھا لیکن پھر بھی میں نے ہمیشہ اُس کی عزت کی حفاظت کی۔اپنے سے پوچھ لو میں نے کبھی تمہارے آباء کی عزت کو ملوث نہیں ہونے دیا حالانکہ تمہارا باپ جو اریا تھا اور میں اپنے بھائی سے خرچ لے لے کر اسے دیا کرتی تھی اور اس کا مجھ پر کوئی احسان نہ تھا۔پھر میں نے آج تک تمہاری پرورش کی۔اگر تم سمجھتے ہو کہ میرا تم پر کوئی حق ہے تو اس کے عوض میں میں آج تم سے قربانی چاہتی ہوں جو یہ ہے کہ آج میدان میں ن کو پیٹھ نہ دکھانا۔اول تو فتح حاصل کرو وگرنہ مارے جاؤ ہے۔وہ عورت ایک بیوہ تھی اور اس کی آخری عمر تھی مگر کیا ہی نیک خواہش اس کے دل میں پیدا ہوئی۔اس ماں نے اب بیٹوں کو جنگ کیلئے تیار کرنے میں جو کچھ خرچ کیا، وہ اُس کا مال تھا اور وہ جو کچھ اس سے لے کر گئے تھے، وہ اُس کی مرحمانیت تھی۔ربوبیت محض شفقت و رافت ہوتی ہے۔رسول کریم کے زمانہ میں بعض لوگ اموال دیتے تھے تاکہ جہاد کیلئے سامان خریدا جاسکے اور اس طرح خدمت دین ہو یہ رحمانیت تھی مگر ایک روزانہ صدقہ ہے جو انسان کرتا ہے یہ ربوبیت ہوتی ہے۔رحمانیت، ربوبیت کے بعد آتی ہے کیونکہ چھوٹے بچے کو ہوش نہیں ہوتی اس پر ، رَبِّ الْعَلَمِيْنَ کی صفت جاری ہوتی ہے اور پھر رحمانیت کی۔یہ دو چیزیں ابتدائی کاموں تعلق رکھتی ہیں۔پچھلی دو کا جواب خدا تعالی کی طرف سے آتا ہے۔اور پہلی دو چیزیں ایسی ہیں جن کے بغیر سالک ترقی نہیں کر سکتا۔اور جو کوئی منازل سلوک طے کرنا چاہیے اسے یہ دونوں مقام حاصل کرنے چاہئیں۔ایک طرف تو کسی کو تکلیف میں دیکھ کر اس کا دل پگھل جائے اور دوسری طرف روپیہ اس طرح خرچ کرے جو رحمانیت کے ماتحت ہو۔تبلیغ بھی رحمانیت کے ماتحت آتی ہے کیونکہ اس کی غرض ہدایت ہے۔اگر کوئی شخص کسی ایسے طالب علم کی امداد کرتا ہے جس میں اشاعتِ اسلام کی اہلیت کے آثار پائے جاتے ہوں تو وہ بھی رحمانیت ہے۔یا کوئی دین کی خدمت کرنے والوں کی کسی نہ کسی رنگ میں امداد کرتا ہے تو وہ بھی رحمانیت کا سلوک ہے۔یا جماعت کے چندے ہیں جو شخص اس نیت اور ارادہ سے چندہ دیتا ہے کہ دین کو تقویت حاصل ہو، وہ رحمانیت سے کام لیتا ہے۔لیکن جو دوستوں ہمسائیوں، رشتہ داروں کی تکلیف اور دُکھ کے وقت ان کی مدد کرتا ہے، وہ رَبُّ الْعَلَمِینَ کی صفت کے ماتحت کرتا ہے۔غرضیکہ رحمانیت وہ سلوک ہے جس کے بعد رحیمیت کا ظہور ہوتا ہے، لیکن جو شفقت اور رافت کے ماتحت سلوک ہوتا ہے وہ ربوبیت ہوتی ہے۔اور جو شخص