خطبات محمود (جلد 14) — Page 75
خطبات محمود ہی کردے۔۷۵ سال ۱۹۳۳ کے نتیجہ میں ہے۔تو دل اللہ تعالی کے اختیار میں ہیں وہ چاہے تو ہمارے دوست پیدا اور چاہے تو دشمنوں میں پھوٹ ڈال دے۔مگر جو کچھ بھی ہو دعاؤں کے نتیجہ میں ہی ہوگا۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہماری تبلیغ میں وہ ایسا اثر ڈال دے۔اور ایسے لوگ جماعت میں داخل ہو جائیں جن کے رُعب ہیبت کثرت اور جتھے سے ڈر کر مخالف باز آجائیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہو جائیں۔مگر جو بھی ہو دعا کے نتیجہ میں ہوگا۔اللہ تعالی سامان بیشک پیدا کردیتا ہے مگر وہ دعا کا نتیجہ ہوتا ہے۔انسان ہزاروں مشکلات میں گھرا ہوتا ہے اور نہیں جانتا کہ کیا کرے مگر اللہ تعالیٰ غیب سے اس کیلئے سامان پیدا کر دیتا ہے۔اور وہ اسے دیکھ کر اللہ تعالیٰ کو ہی چھوڑ دیتا ہے اور خیال کرلیتا کہ فلاں وجہ سے میری مشکلات آسان ہو گئیں۔بعض نادان شکوہ کرتے ہیں کہ ہم دعائیں کرتے ہیں مگر قبول نہیں ہوتیں۔حالانکہ وہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالٰی دعاؤں کے نتیجہ میں زمینی سامان پیدا کر دیتا ہے۔پھر بعض اوقات انسان کسی بہت بڑی مصیبت میں مبتلاء ہونے والا ہوتا ہے اور وہ بچالیتا ہے۔مثلاً ایک شخص بخار میں مبتلاء ہے جو رسل کا پیش خیمہ ہے۔وہ دعا کرتا ہے کہ خدایا میرا بخار اتار دے اور نہ اُترنے پر سمجھتا ہے کہ میری دعا قبول نہیں ہوئی۔حالانکہ اس کیلئے ایک خطرناک بیماری یعنی رسل مقدر تھی جو اسے معلوم نہیں اور اس لئے نہیں جانتا کہ دعا کی وجہ سے اس کے سر سے کتنی بڑی مصیبت ٹل گئی ہے۔تو دعا کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ بعض اوقات کسی بڑی مصیبت کو ٹال دیتا ہے اور چھوٹی کو اپنی کسی مصلحت کی وجہ اس سے رہنے دیتا ہے۔پس مومن کو اللہ تعالی ابتلاؤں سے آزماتا ہے۔یہ ابتلاء کبھی جانی ہوتے ہیں، کبھی مالی کبھی دماغ اور دل کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور کبھی عزت کے ساتھ کبھی اس کے احساسات کو صدمہ پہنچایا جاتا ہے، کبھی عقل و شعور پر حملہ کیا جاتا ہے، کبھی مالی نقصان ہو جاتا ہے، کبھی اسے یا اس کے کسی عزیز کو بیماری آجاتی ہے، کبھی اس کے مال پر مصائب آتے ہیں۔غرضیکہ کئی رنگ کے مصائب آتے ہیں اور اس وقت جب وہ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتا ہے تو وہی ابتلاء اور مصائب اس کیلئے ترقیات کا موجب ہو جاتے ہیں۔اگر ان کے ذریعہ اس کے اندر درد اور سوز اور دعا کی توفیق پیدا ہو جاتی ہے تو وہی مصائب اس کی ترقیات کیلئے کھاد کا کام دیتے ہیں۔پس حقیقی کامیابی کا راز یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے دعائیں کی جائیں۔اور اس یقین اس ہے