خطبات محمود (جلد 14) — Page 303
خطبات محمود ٣٠٣ سال ۱۹۳۳ء نمونے قائم کریں جو آسمان چاہتا ہے، وہ نہیں جو فلاسفر بتاتے ہیں۔جب محمد رسول الله الله نے دنیا سے یہ کہا کہ ظلم مت کرو تو اس تعلیم میں آپ منفرد نہ تھے۔حتی کہ تمام انبیاء اس میں منفرد نہیں ہیں۔یونان، عرب ، یورپ، ہندوستان، مصر ہر جگہ اور ہر ملک کے فلاسفر یہی کہتے آئے ہیں۔لیکن جس مقام سے دونوں جُدا ہوتے ہیں وہ یہ ہے کہ رسول کریم ایں کہتے ہیں جہاں بظاہر تم اپنی تباہی سمجھتے ہو وہاں بھی خاموش رہو گے۔اور یہ وہ بات ہے جو فلاسفر نہیں کہتے۔فلاسفر تو عقل سے آگے کوئی چیز مانتا ہی نہیں۔اس لئے یہ بات وہی کہہ سکتا ہے جس کا اللہ تعالی پر ایمان ہو۔اور یہی وہ چیز ہے جس کیلئے مذہب قائم کیا جاتا ہے۔اور اسے کرکے ہی ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے اپنا مقصد پورا کردیا۔محض چند نے دینے سے ہمارا مقصد پورا نہیں ہوتا۔چندے دینے میں دوسرے لوگ ہم سے بہت زیادہ قربانی کرتے ہیں۔ہماری جماعت میں کتنے لوگ ہیں جنہوں نے دین کیلئے اپنی جائدادیں وقف کی ہوں۔لیکن یورپ میں لاکھوں اوقاف ہیں۔کئی بار ہم نے اخباروں میں پڑھا ہے کوئی شخص فوت ہوتا ہے تو اس کا ترکہ میں تمیں لاکھ کا ہوتا ہے۔مگر اپنی زندگی میں اس نے جو خیرات کی اس کی میزان تمیں چالیس کروڑ تک پہنچتی ہے۔پس مالی قربانی ایسی چیز ہے کہ لوگ مذہب سے باہر بھی کرتے آئے ہیں اور کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔جس چیز سے وہ لوگ خالی ہیں وہ ایسی قربانی ہے جس کا نتیجہ دنیا میں کوئی نہیں نظر آتا۔جس میں بظاہر تباہی نظر آتی ہے مگر مومن سمجھتا ہے کہ گو دنیا میں وہ ایک بظاہر بے فائدہ فعل کر رہا ہے لیکن ایک آسمانی بادشاہت ہے جو اس کا نتیجہ پیدا کرے گی۔اور یہی وہ چیز ہے جسے قائم کرنے کیلئے ہم کھڑے کئے گئے ہیں۔اس کی بجائے ہم اگر سطحی باتوں کو دیکھیں تو خدا کو خوش نہیں کرسکتے۔اسی لئے میں نے بارہا یہ نصیحت کی ہے کہ مؤمن کا مظلوم ہونا اس کے ظالم بلکہ عادل ہونے سے بھی بہتر ہے۔اس لئے قطع نظر اس سے کہ یہ واقعہ کیا ہے اور محض یہ فرض کرتے ہوئے کہ ہمارے کسی آدمی کی غلطی ہوگی، میں اعلیٰ افسروں کو کہ وہ جماعت کی تربیت کے ذمہ دار ہیں اور مقامی سینگ مینز ایسوسی ایشن (YOUNG MENS ASSOCIATION) کو کہ اس نے اپنی خوشی سے اس کیلئے تعاون شروع کیا ہے اور طوعاً ایک فرض اپنے ذمہ لیا ہے توجہ دلاتا ہوں کہ مذہبی اور اخلاقی حفاظت جسمانی حفاظت سے بھی زیادہ ضروری ہے۔رسول کریم الله کے واقعات زندگی کو دیکھو۔ان کا مطالعہ کر کے ہر شخص یہ سمجھ سکتا ہے کہ سب سے زیادہ