خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 299 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 299

خطبات محمود ۲۹۹ سال ۱۹۳۳ء ب اس مفہوم کو اپنے دل میں بٹھاؤ گے تو اللہ تعالیٰ کی محبت تمہارے دل میں قائم ہوگی اور اس کا قرب تمہیں حاصل ہو گا۔پس یاد رکھو تمام ترقیات کا گر توحید ہے۔اللہ تعالیٰ کے حسن کو ایسے رنگ میں ظاہر کرنا کہ باقی تمام حسن اس کے سامنے بے حقیقت ہو جائیں۔اسی طرح جس طرح سورج کے سامنے ستارے ماند پڑ جاتے ہیں اور نظروں سے غائب ہو جاتے ہیں بلکہ اس بھی زیادہ یہ توحید کا مفہوم ہے۔یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ باقی چیزیں معدوم ہو جاتی ہیں کیونکہ جسے خدا نے بنایا وہ معدوم کیسے ہو سکتا ہے۔مگر خدا تعالیٰ کا حسن اس قدر ظاہر ہو کہ باقی تمام حسن ماند پڑ جائیں۔اور سوائے اللہ تعالیٰ کے حسن کے اور کوئی حسن نظر ہی نہ آئے۔یہی توحید ہے۔اور جس وقت یہ مقام حاصل ہو جاتا ہے، اس وقت انسان کا دل کسی انسان کی ނ محبت کیلئے فارغ نہیں ہو سکتا۔یہ تعلیم ہے، اسے دنیا کے سامنے پیش کرو۔رسول کریم ا کی وہ قربانیاں ظاہر کرو۔اور آپ کی ان خدمات کو پیش کرو جو آپ نے نوع انسان کیلئے کیں۔ورنہ اگر یوں کرو گے تو ہندوؤں کے بازار میں سے گزرتے ہوئے يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ کھو گے تو وہ سمجھیں گے یہ پاگل ہو گئے ہیں۔لیکن اگر تم یہ بیان کرو گے کہ غیر قوموں رسول کریم اللہ نے کیا کیا احسانات کئے تو وہ بے اختیار آپ کے مداح ہو جائیں گے۔تو تم تجربہ کر کے دیکھ لو کہ ان میں سے کون سا رسول کریم ﷺ کی محبت پیدا کرنے والا نسخہ تمہیں معلوم ہوگا کہ قربانیاں پاکیزگی اور اخلاق ہی ایسی چیز ہیں جن سے محبت پیدا ہو۔سکتی ن که يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ " کہنے سے۔پس صحیح طریق اختیار کرو۔قادیان والوں پر زیادہ ہے۔ہے نہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ یہ ہر وقت دین کی باتیں سنتے رہتے ہیں۔میں امید کرتا ہوں کہ اس دفعہ جلوس میں زیادہ عمدگی سے کام کیا جائے گا۔اور کوئی ایسا طریق اختیار نہیں کیا جائے گا جس میں تماشہ ہو یا مشرکانہ رنگ پایا جاتا ہو۔الفضل ۱۰ - دسمبر ۱۹۳۳ء) له بخاری کتاب المناقب، باب قول النبی ا سدوا الابواب الاباب ابي بكر که بخاری کتاب الجنائز باب ما يكره من اتخاذ المساجد على القبور سے بخاری کتاب المناقب - باب قول النبى الله الله لو كنت متخذا خليلا البقرة: ۱۸۷