خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 280 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 280

خطبات محمود ۲۸۰ سال ۱۹۳۳ء نیک نہیں بن سکتا۔اور نہ ہی ایک سے تقویٰ قائم رہ سکتا۔ہے۔ضروری ہے کہ کامل انسان میں یہ دونوں باتیں پائی جائیں۔اس میں یہ بھی طاقت ہو کہ خواہ کتنی ہی تکلیف دہ بات ہو پھر بھی غلط اثر کو قبول نہ کرے اور یہ بھی چاہیے کہ خواہ حالات کتنے ہی مخالف کیوں نہ ہو۔پھر بھی اچھی چیز کے اثر کو رد نہ کرے۔اسی چیز کو اللہ تعالی نے اس آیت میں بیان فرمایا کہ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ - جب کسی ایسی چیز کا سوال ہو جو مذہب ودین کے خلاف ہو تو چاہیے کہ کہ مومن ایک ایسی چٹان کی مانند ہو جس پر کوئی چیز اثر ہی نہیں کر سکتی۔لیکن جہاں تقویٰ کا معاملہ ہو، وہاں ایسا معلوم ہو کہ وہ قبل از وقت ہی مجھک رہا تھا۔نیکی کا سوال تو بعد میں پیدا ہوا۔اس کے قبول کرنے کا میلان اس کے اندر پہلے ہی موجود تھا۔اس درجہ کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اُس دیئے سے تشبیہ دی ہے جو قریب ہے کہ آگ کے بغیر ہی جل پڑے۔یہی مقام ہے کہ جب انسان اسے ہر قسم کی ملونی سے پاک کر دیتا ہے۔تو اسی کو صدیقیت کہتے ہیں۔صدیق اور مُصدّق میں یہی فرق ہوتا ہے۔مُصدّق تو بعد میں آکر کہتا ہے کہ میں اس کی تصدیق کرتا ہوں۔مگر صدیق میں اس کے قبول کرنے کا میلان پہلے ہی موجود ہوتا ہے۔یوں تو سب صحابہ مصدق تھے۔لیکن صدیقیت میں ابوبکر رضی اللہ عنہ سب سے بڑھے ہوئے تھے۔ہمارے زمانہ میں بھی صوفی احمد جان صاحب جو پیر منظور احمد صاحب اور پیر افتخار احمد صاحب کے والد اور حضرت خلیفہ اول کے خسر تھے، صدیقیت کا مقام حاصل کئے ہوئے تھے۔ابھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعوی بھی نہ کیا تھا کہ انہوں نے آپ کو ایک خط لکھا جس میں یہ شعر تھا۔ہم مریضوں کی ہے تمہیں پہ نظر تم مسیحا بنو خدا کیلئے ابھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی نہیں سمجھتے تھے کہ میں مسیح موعود ہوں۔مگر انہوں نے کہا کہ آپ ایسا دعویٰ کریں ہم آپ کو ماننے کیلئے تیار بیٹھے ہیں۔یہی صدیقیت کا مقام ہے۔جب رسول کریم ﷺ نے دعوی کیا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کسی قریب یا بعید کے مقام پر باہر گئے ہوئے تھے۔آپ کا دعوی سن کر لوگ ادھر اُدھر دوڑ پڑے کہ خبر دیں کہ ایسے اچھے آدمی کو کیا ہو گیا ہے۔وہ آپ کو پاگل سمجھنے لگ گئے تھے۔جھوٹ تو بعد میں اس