خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 257 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 257

خطبات محمود ۲۵۷ سال ۱۹۳۳ء استعمال نہیں کرنا چاہیئے۔گو نازک مواقع پر ضرورت پیش آتی ہے اور اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ایسے موقع پر جب سلسلہ کے کام میں خلل واقعہ ہونے کا خطرہ ہو خلیفہ کی طرف سے بھی تحریک کی ضرورت ہوتی ہے۔لیکن جو کام ساری جماعت کر رہی ہو اس کے متعلق مرکزی کارکنوں کا یہ کہنا کہ اس کیلئے مرکزی جماعت کو میں تحریک کروں دو ہی معنے رکھ سکتا ہے۔ایک تو یہ کہ نَعُوذُ بِاللهِ قادیان منافقوں کی بستی ہے اس میں ایسے لوگ رہتے ہیں کہ تک انہیں کسی کام کیلئے خلیفہ خود نہ کہے گا وہ کچھ نہ کریں گے۔یا پھر قادیان کی جماعت پر خطرناک حملہ کیا جاتا ہے۔پس یا تو لوکل جماعت کے عہدہ دار بجائے جماعت کی عزت کی حفاظت کرنے کے اس کی تذلیل کرتے ہیں یا پھر واقعہ میں قادیان میں اتنے منافق جمع ہو گئے ہیں کہ سوائے اس کے کہ میرے منہ سے کوئی بات نکلے، کوئی تحریک کامیاب ہی نہیں ہو سکتی۔جب کوئی کام کرنے کا موقع آتا ہے میرے پاس اس قسم کی چٹھیاں آنی شروع ہو جاتی ہیں کہ آپ تحریک کریں۔مثلاً چندہ کرنا ہو تو کہتے ہیں آپ لوگوں سے کہیں۔تبلیغ احمدیت کے متعلق کرنی ہو تو کہتے ہیں آپ کہیں۔اگر جماعت میں یہ بات نہیں کہ اس پر میری بات کے سوا کسی کی بات کا اثر نہیں ہوتا۔اور وہ کسی کارکن کی بات ماننے کیلئے تیار نہیں ہو سکتی تو پھر ہر بات کیلئے مجھ سے تحریک کرانا نہایت خطرناک حملہ ہے ان لوگوں پر جن کا اخلاص اسے برداشت نہیں کرسکتا۔کیونکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ مخلص احباب کو منافق اور بددل قرار دیا ہے۔صحیح ہے کہ کچھ بزدل لوگ بھی مرکز میں آجاتے ہیں۔وہ چونکہ باہر مخالفین کا مقابلہ نہیں کرسکتے اس لئے تکالیف سے بچنے کیلئے آجاتے ہیں۔مگر مرکز میں ان کی کثرت نہیں ہونی چاہیے اور نہ خداتعالی کے فضل سے ان کی کثرت ہے۔جو لوگ ایسے ہوں ان کو نظر انداز کر دینا بہتر ہے بہ نسبت اس کے کہ خلیفہ کو ایسی تحریکات میں لایا جائے۔اگر قادیان اور اس کے اردگرد سوڈیڑھ سو منافق ہوں تو ان کو چھوڑ دینا بہتر ہے بہ نسبت اس کے کہ خلیفہ سے انہیں کہلایا جائے اور اس سے تحریک کرائی جائے۔اس کے متعلق تحریروں میں تو میں نے کئی بار کہا ہے اور شاید خطبہ میں بھی کہا ہے۔لوکل کارکنوں اور مرکزی کارکنوں کو خود کام کرنا چاہیئے۔اور اگر کوئی شخص کام نہیں کر سکتا تو اسے وہ عہدہ چھوڑ دینا چاہیے اور دوسروں کو کام کرنے کا موقع دینا چاہیئے۔اگر لوکل جماعت میں اخلاص ہے اور وہ دینی کاموں میں حصہ لینا اپنا فرض سمجھتی ہے تو اس کیلئے خلیفہ سے کہنا کہ وہ اسے تحریک کرے، اس کے یہ معنی جاتا