خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 165

خطبات محمود ۱۶۵ سال ۱۹۳۳ء احساس نہ تھا کہ اس کی قوم کے سردار اس لڑائی میں کام آئے۔وہ اطمینان سے اپنے بچہ کو لے کر ایک گوشہ میں بیٹھ گئی۔تب رسول کریم ﷺ نے جن کی نگاہ ہر لطافت کو دیکھنے والی تھی اس نظارہ کو دیکھ کر اپنے صحابہ سے فرمایا تم نے اس کی بے تابی کو دیکھا۔پھر تم نے یہ بھی دیکھا کہ بچہ ملنے پر اسے کیسا اطمینان حاصل ہو گیا۔آپ نے فرمایا اللہ تعالٰی کو جب اس کا کھویا ہوا بندہ ملتا ہے تو وہ اس سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے لاہ۔غرض دو ستونوں کے درمیان جب دوڑتے ہیں تو اُس وقت رسول کریم ﷺ کی یہ بات یاد آجاتی ہے کہ ماں کی محبت جو اپنے بچہ سے ہوتی ہے اس سے بہت زیادہ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے محبت ہوتی ہے۔تب انسان ہے کہ میرا رب بھی مجھے نظروں سے پوشیدہ نہیں کرے گا اور وہ بھی مشکلات کے موقع مجھتا میری مدد فرمائے گا۔مگر کتنے ہیں جنہیں یہ یقین ہوتا ہے کہ خداتعالی انہیں ضائع نہیں کرے گا۔کتنے ہیں جنہیں یہ یقین ہوتا ہے کہ خدا اُن کے دُکھ کو دیکھ کر بیتاب ہو جائے گا۔پھر کتنے ہیں جنہیں یقین ہوتا ہے کہ خدا جب انہیں تکلیف میں دیکھے گا تو ان کی نصرت فرمائے گا۔جانے دو اُن کافروں کو جو اللہ تعالیٰ پر یقین نہیں رکھتے، جانے دو اُن منافقوں کو جن کے دل زنگ آلود ہو چکے مومنوں میں سے کتنے ہیں جنہیں یہ یقین ہوتا ہے یقینا کم اور بہت کم۔اگر انہیں خداتعالی کی محبت پر یقین اور اعتماد ہوتا، اتنا ہی جتنا حضرت ہاجرہ کو اللہ تعالیٰ کی ذات پر اعتماد تھا تو یقینا کوئی بندہ ضائع نہ ہوتا۔جب حضرت ہاجرہ نے یہ کہا کہ خدا مجھے ضائع نہیں کرے گا تو دیکھو کس طرح وہ بچائی گئیں۔خدا تعالیٰ نے ان کیلئے وہ کام کیا جو کئی نبیوں کیلئے بھی نہ کیا تھا۔حضرت اسمعیل علیہ السلام نبی ہوئے مگر بعد میں۔اُس وقت نبی نہیں تھے۔نبی بھی پیائے ہوئے مگر ان کیلئے چشمے نہیں پھوڑے گئے۔چشمہ حضرت اسمعیل کیلئے اُس وقت پھوڑا جب ان کی کمزور ماں نے یقین اور ایمان کا پہاڑ خدا کے سامنے پیش کر دیا۔ہر چیز کی اپنی نسبت کے لحاظ سے قیمت ہوا کرتی ہے۔امیر آدمی اگر ایک کروڑ روپیہ بھی دے دے تو کوئی بڑی بات نہ ہوگی مگر غریب آدمی اگر ایک روپیہ بھی دے دے تو وہ بہت بڑی بات رکھے گا۔حضرت ہاجرہ نے اپنی کمزوری کے مقابلہ میں جو اخلاص دکھایا وہ بہت ہی زیادہ تھا۔اسی لئے خدا تعالیٰ نے اس رنگ میں انہیں نوازا۔اور یہی چیز ہے جو انسان کے تمام اعمال میں نور پیدا کر دیتی ہے۔خدا تعالیٰ نے جو یہ فرمایا ہے کہ اللهُ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ سے اس کے یہی معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ کی محبت اور عشق جس چیز میں داخل ہو جائے وہ چیز روشن ہو جاتی ہے۔۔