خطبات محمود (جلد 14) — Page 164
خطبات محمود ۱۹ سال ۱۹۳۳ء پرا ہیں، وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو چھوڑ کر واپس آجاتی ہیں۔اور اس یقین و توکل کے ساتھ واپس آتی ہیں کہ اگر خدا نے ہمیں اس جگہ رہنے کیلئے بھیجا ہے تو وہ خود ہمارے لئے کھانے پینے کا انتظام کرے گا۔غرض حضرت ہاجرہ اور دوسری ماؤں میں یہ فرق ہے کہ دوسری مائیں مجبوری یا حالات کی وجہ سے مشکلات میں پڑتی ہیں۔اور حضرت ہاجرہ نے اللہ تعالٰی کے حکم کے ماتحت اس پر توکل اور یقین رکھتے ہوئے اس مصیبت میں پڑنا قبول کیا۔اللہ تعالی کی غیرت کیونکر برداشت کر سکتی تھی کہ حضرت ہاجرہ نے جب ایک عورت اور جوان عورت ہو کر جس کی امنگیں اُسے دوسری طرف لے جاسکتی ہیں، اللہ تعالی پر یقین رکھا اور اسے وفادار سمجھا تو وہ اس سے بڑھ کر اس کیلئے وفا نہ دکھلائے۔اللہ تعالٰی نے جوابا کہا۔ہاجرہ نے اپنے بچے کو میرے لئے قربان کیا اب میں اس کی اولاد کو کبھی قربان نہ ہونے دوں گا۔اس نے میری محبت کی خاطر اپنی محبت کو قربان کر دیا، اب میں بھی اس کی محبت کو ہمیشہ قائم رکھوں گا۔کوئی بادشاہ ہو یا گدا امیر ہو یا غریب، چھوٹا ہو یا بڑا ہر ایک جو خدا پر ایمان رکھنے والا ہے آئے گا اور ہاجرہ کے کام کی نقل کرے گا۔تا میں دنیا کو بتاؤں کہ اگر ہاجرہ دو ستونوں کے درمیان اپنے بچے کو اپنی نظروں سے اوجھل نہیں کر سکتی تو کیا میں اپنے پیارے بندوں کو اپنی نظروں اوجھل ہونے دیتا ہوں۔پس صفا اور مروہ پر دو ستونوں کے درمیان دوڑنا ہمیشہ یہ امر یاد دلاتا ہے کہ جب کچی محبت دل میں ہوتی ہے تو کوئی شخص اپنے محبوب کو نظروں سے غائب ہونے نہیں دیتا۔اس کیلئے اور مثالیں بھی چینی جا سکتی تھیں مگر خدا تعالیٰ نے اس کی مثال مچنی جس نے خدا کیلئے اپنے آپ کو قربان کر دیا۔جب حضرت ہاجرہ کی یاد میں صفا اور مروہ پر حاجی دوڑتے ہیں اور یہ اقرار کرتے ہیں کہ ایک ماں کی مامتا اپنے بچے کو پوشیدہ ہونے نہیں دیتی، تب رسول کریم کی یہ بات بھی یاد آجاتی ہے کہ جنگ بدر کے موقع پر ایک مشرکہ عورت کا بچہ کھویا گیا۔وہ دیوانہ وار جبکہ تلواریں چل رہی تھیں، مسلمان فاتح ہو چکے تھے اور کفار کی جان خطرہ میں تھی، اپنے بچے کو تلاش کرنے لگی۔اُس وقت اُس کی اپنی جان بھی خطرہ میں تھی مگر جب اُس کی قوم کے بہادر سپاہی میدان سے بھاگ رہے تھے، وہ دیوانہ وار کبھی لاشوں کو دیکھتی کبھی زندہ بچوں کو دیکھتی۔آخر تلاش کے بعد اپنا بچہ اُسے مل گیا، اُس نے اُسے چھاتی سے لگالیا۔اُس وقت اُسے کوئی خبر نہ تھی کہ ہمارے بہادر اس لڑائی میں مارے گئے۔اسے کچھ