خطبات محمود (جلد 14) — Page 9
خطبات محمود ۹ سال ۱۹۳۳ء تدبیر اختیار کی جائے۔سپرنٹنڈنٹ پولیس نے کہا تدبیر یہ ہے کہ گواہ کو عیسائیوں کے قبضہ سے نکالا جائے اور اس سے صحیح صحیح واقعہ پوچھا جائے۔ڈپٹی کمشنر نے فوراً آرڈر دے دیا۔اور سپرنٹنڈنٹ صاحب پولیس نے اس شخص کو اپنی حراست میں لے لیا اور اس سے اصل واقعہ پوچھا۔چونکہ وہ بہت ڈرا ہوا تھا اور عیسائیوں نے اسے دھمکایا تھا۔اس لئے پہلے تو اس نے میں کہا کہ مرزا صاحب نے مجھے فلاں پادری کو قتل کرنے کیلئے بھیجا۔مگر جب اسے تسلی دے کر پوچھا گیا کہ اور کہا گیا کہ اگر وہ سچ بول دے گا تو اسے کسی قسم کی سزا نہیں دی جائے گی تو وہ روتا ہوا سپرنٹنڈنٹ صاحب پولیس کے قدموں پر گر پڑا۔اور کہنے لگا مجھے عیسائیوں نے نیہ سکھلایا تھا کہ میں مرزا صاحب پر یہ الزام لگاؤں اور مجھے کہا گیا تھا کہ اگر تم الزام نہیں لگاؤ گے تو تمہیں چوری کے جرم میں ہم سزا دلوادیں گے۔سپرنٹنڈنٹ صاحب نے یہ سارا واقعہ ڈیٹی کمشنر صاحب کو بتلا دیا۔جس سے ان کی تسلی ہو گئی اور دو تین معمولی پیشیوں کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بری کر دیا گیا۔کر سکتا ڈگلس آج تک زندہ ہے اور وہ بیان کیا کرتا ہے کہ میری زندگی میں یہ ایک عجیب واقعہ ہوا۔کئی انگریزوں کو وہ یہ واقعہ سنا چکا ہے اور جب اُس سے پوچھا جاتا ہے کہ اپنی زندگی کا کوئی عجیب واقعہ سناؤ تو وہ یہی قصہ بیان کیا کرتا ہے۔غرض یاد رکھو جو کام دعا کر سکتی ہے وہ نہ توپ کر سکتی ہے، نہ بندوق کر سکتی ہے، نہ تلوار کر سکتی ہے، نہ گولہ بارود کر سکتا ہے، نہ تیرو تفنگ ہے، نہ فوجیں کر سکتی ہیں۔وہ خدا کی حفاظت میں آجاتا ہے اور یاد رکھو کہ یہ وہ دن ہیں جن میں خدا کہتا ہے کہ مجھ سے مانگو میں تمہیں دوں گا۔پس ان دنوں میں دعائیں کرو نہ صرف اپنے لئے بلکہ سلسلہ اور اسلام کی ترقی اور جماعت کی اصلاح کیلئے بھی۔اور دعا کرو کہ اللہ تعالٰی اپنا فضل فرما کر قلوب میں وہ نور پیدا کرے جو اسلام پیدا کرنا چاہتا ہے۔دنیا پر کفر غالب آ رہا ہے، دہریت پھیلی ہوئی ہے اور عقائد میں تزلزل واقعہ ہو رہا ہے۔اللہ تعالیٰ کرے کہ وہ دن جن کے متعلق کفر اور فلسفہ کہتا ہے کہ نہیں آئیں گے، جلد از جلد دنیا آئیں دنیا میں اسلام کی شوکت ظاہر ہو اور دین کا جلال چمکے۔الفضل ۲۶ - جنوری ۱۹۳۳ء) ے تلازمہ مضمون کی رعایت سے الفاظ کا استعمال- رعایت لفظی ه طبری جلد ۳ صفحه ۲۴۷ تا ۲۴۹ مطبوعہ دار الفکر بیروت ۱۹۸۷ء