خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 8 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 8

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ الی تصرف اور خدائی سامان کے جن کے سامنے انسانی تدابیر سب باطل ہو جاتی ہیں، ان کے نتیجہ میں ہوتا یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بالکل آزادی کے ساتھ عدالت میں پہنچتے ہیں۔ڈپٹی کمشنر آپ کو نہایت اعزاز سے کرسی پر بٹھاتا ہے۔یہ دیکھ کر دشمن حیران ہو جاتا ہے کہ جاری تو وارنٹ ہوئے تھے مگر یہ آزادانہ طور پر یہاں کس طرح پہنچ گئے۔مگر ان کو کیا معلوم کہ الہی تصرف نے وارنٹ کے ساتھ کیا کیا۔ڈپٹی کمشنر نے وارنٹ تو جاری کردیا لیکن اس کی تعمیل میں التواء ہو گیا۔وارنٹ کہیں کاغذوں کے نیچے دب گیا۔تیسرے دن اسے خیال آیا میں نے جو وارنٹ جاری کیا ہے مجھے اس کے جاری کرنے کا اختیار نہیں تھا۔وہ فوراً گورداسپور تار دیتا ہے کہ میں نے جو مرزا صاحب کے متعلق وارنٹ جاری کیا ہے اس کی تعمیل نہ کی جائے۔گورداسپور کی عدالت والے حیران ہوتے ہیں کہ ایسا وارنٹ تو کوئی آیا نہیں۔وہ لکھتے ہیں ایسا وارنٹ ہمیں نہیں ملا۔آخر وارنٹ جاری کرنے والے ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے کاغذات میں ہی پڑا رہتا ہے اور اُسے بھیجنے کی بھی توفیق نہیں ملتی۔گورداسپور کا ڈپٹی کمشنر جو اب تک زندہ ہے، ڈگلس اِس کا نام تھا۔وہ سخت متعصب عیسائی تھا اس کے تعصب کی یہ ایک مثال ہے کہ جب وہ آیا تو اس نے آتے ہی کہا کہ میں سنتا ہوں یہاں ایک شخص مسیح ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، کیا ابھی تک اس کو سزا نہیں ملی۔یہ حالات تھے مگر مقدمہ کے دوران میں اس کے دل میں یہ بات میخ کی طرح گڑ جاتی ہے کہ مرزا صاحب پر جھوٹا الزام لگایا گیا ہے۔سپرنٹنڈنٹ پولیس نے بیان کیا۔میں نے دیکھا بٹالہ کے ٹیشن پر ڈگلس صاحب گھبرائے ہوئے پھر رہے ہیں کبھی ادھر جاتے ہیں اور کبھی اُدھر۔میں نے ان کیلئے کرسی بچھائی مگر وہ نہ بیٹھے۔میں نے کہا آپ بیٹھ جائیں۔وہ کہنے لگے میری طبیعت خراب ہے اتنا کہہ کر پھر ان پر گھیرا ہٹ غالب آگئی اور وہ مضطربانہ حالت میں ٹہلنے لگ گئے۔میں نے کہا صاحب! آخر بات کیا ہے۔انہوں نے کہا میں حیران ہوں کہ کیا کروں؟ ایک طرف مجھ پر زور دیا جارہا ہے کہ مرزا صاحب پہلی دفعہ قابو آئے ہیں، انہیں اچھی طرح سزا دی جائے۔دوسری طرف میری یہ حالت ہے کہ میں جدھر جاتا ہوں مرزا صاحب کی صورت میرے سامنے آجاتی ہے۔اور وہ یہ کہتی مجھے نظر آتی ہے کہ الزام بالکل جھوٹا ہے۔اتنا کہہ کر ڈگلس صاحب بیٹھ گئے۔سپرنٹنڈنٹ پولیس نے مجھے بتایا میں تو پہلے ہی کہہ چکا ہوں، یہ شخص سچا ہے۔اور جو مقدمہ کھڑا کیا گیا ہے محض جھوٹا اور بناوٹی ہے۔وہ پوچھنے لگے پھر اس کیلئے کیا