خطبات محمود (جلد 14) — Page 116
خطبات محمود 114 یہاں تک کہ وہ وقت آجائے گا جب اس کی کوششوں کا دروازہ بند ہو جائے گا۔پس یاد رکھو بہت سے لوگ نیکیوں سے اس لئے محروم رہتے ہیں کہ وہ دوسروں کی نقل کرنا نیکی کا کمال ہیں۔اور خیال کرتے ہیں کہ یہی نقل اصل نیکی ہے۔حالانکہ روحانیت میں ترقی کرنے کا اصل یہ ہے کہ انسان اپنے میلانوں کو دیکھے، ان پر غور کرے اور پھر ان کے مطابق نیکی میں ترقی کرے۔کوئی میلان ایسا نہیں جسے نیکی میں تبدیل نہ کیا جاسکتا ہو۔اگر کسی میں غصہ ہے تو یہ کون سی بُری بات ہے، آخر دنیا میں ایسے لوگ بھی تو ہونے چاہئیں جو جوش رکھتے ہوں تاکہ مظلوم کی اعانت کیلئے بڑھ سکیں۔اور اگر وہ غصہ نکال دیں گے تو بعض نیکیوں سے محروم رہیں گے۔انہیں چاہیے کہ وہ بجائے غصہ مٹانے کے اُسے خُبث شرارت اور گمراہی کے مٹانے صرف کریں۔اسی طرح ہر جذبہ نیکی کی طرف لایا جا سکتا ہے۔پس اگر تم روحانی ترقی حاصل کرنا چاہتے ہو تو بجائے نقل کرنے کے اپنے جذبات اور شریعت کا مطالعہ کرو۔اور ان جذبات کو نیکی کے میدانوں میں لے آؤ۔پھر اس میدان میں اپنے جذبات کو خوب جولانیاں کرنے دو۔کیونکہ جتنی بھی وہ جولانیاں کریں گے ، اتنی ہی تمہارے لئے نیکیاں لکھی جائیں گی۔یہ گر ہے جو روحانیت میں کام آسکتا ہے، اسے یاد رکھنا چاہیے۔میں نے دیکھا ہے بہت سے لوگ اس لئے نیکیوں سے محروم رہتے ہیں کہ وہ پانی پر زور دیتے ہیں کہ آگ کا کام کرے۔اور آگ سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ پانی کا کام کرے۔آگ پانی کا کام نہیں کر سکتی اور پانی آگ کا کام نہیں کر سکتا۔ریت لوہے کا کام نہیں کر سکتی اور لوہا ریت کا کام نہیں کر سکتا۔ریت کیلئے خدا نے اور بہت سے کام مقرر کئے ہیں۔بلکہ اب تو ریت کے پُل بھی تیار ہونے لگ گئے ہیں۔جو سیمنٹ سے بھی زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔لیکن جہاں ریت اس مفید کام پر صرف ہوتی ہے۔وہاں پر بُرے رنگ میں بھی استعمال ہو جاتی ہے۔ایک چور ریت کی مٹھی بھر کر شریف آدمی کی آنکھوں میں جھونک دیتا ہے اور خود بھاگ جاتا ہے۔پس ریت بُرا کام بھی دے سکتی ہے اور اچھا بھی۔اسی طرح لوہے سے اچھا کام بھی لیا جاسکتا ہے اور بُرا بھی۔ایک ہی تلوار ہوتی ہے مگر اس سے ناحق کا خون بھی کیا جاسکتا ہے اور وہی تلوار ملک، قوم اور مذہب کی حفاظت کیلئے بھی استعمال ہو سکتی ہے۔پس ہر انسانی جذبہ اچھی طرف بھی جاسکتا ہے اور بُری طرف بھی۔تمہیں چاہیے کہ تم بجائے اپنے جذبات کو النے کے اسی میدان میں ترقی کرنے کی کوشش کرو جو تمہارے لئے مقرر کیا گیا ہے۔بعض کا