خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 115 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 115

خطبات محمود 11A سال ۱۹۳۳ء دور بیٹھنے سے غصہ کیوں آجاتا ہے۔یہ دو طبیعتیں ہیں اور دونوں اپنی جگہ پر ایک نیکی کے مقام پر ہیں۔ایسی طبیعتوں والے دو آدمی اگر کفر میں چلے جاتے تو ایک کفر میں جو شیلا ہوتا اور دوسرا کفر میں ٹھنڈا۔لیکن جب دونوں ایمان کے دائرہ میں آگئے تو ایک ایمان میں جوشیلا نکلا اور دوسرا ایمان میں نرم طبیعت کا۔طبیعتیں وہی ہیں مگر اپنے اپنے دائرہ میں ترقی کر رہی ہیں۔میری غرض اس سے یہ ہے کہ بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی نیکی کی جدوجہد میں دوسروں کی نقل اختیار کرنا ایک معیار قرار دے لیتے ہیں۔یعنی اگر ان کے محلہ یا قرب و جوار میں کوئی ایسا شخص رہتا ہے جو بہت ہی نرم طبیعت کا ہے تو وہ نیکی یہ سمجھتے ہیں کہ ہم بھی اس کی طرح نرم طبیعت بنالیں۔اور اس طرح ان کی تمام کوششیں جو وہ نیکی کے حصول کیلئے کرتے ہیں، رائیگاں چلی جاتی ہیں اور نیکی کے میدان میں ترقی کرنے سے محروم رہتے ہیں۔مومن کو چاہیے کہ وہ اپنے جذبات کا مطالعہ کر کے انہیں خداتعالی کی راہ میں لگانے کی کوشش کرے۔اگر وہ نرم طبیعت رکھتا ہے تو غصے والے کی نقل کرکے کامیاب نہیں ہو سکتا۔اور اگر سخت طبیعت رکھتا ہے تو کبھی نرم طبیعت والے کی نقل کرکے نیکی میں ترقی حاصل نہیں کر سکتا۔بلکہ اگر وہ ان نیکیوں میں ترقی کرنے کی کوشش کرے جو اس کی طبیعت کے لحاظ سے سخت طبیعت والے کیلئے مخصوص ہیں تو وہ بہت جلد میدانِ روحانیت میں آگے نکل جائے۔اگر جوش رکھنے والا شخص یہ کہتا ہے کہ میں اپنی طبیعت کو نرم بناؤں تو وہ غلطی کرتا ہے۔کیونکہ خدا نے اس کی طبیعت کو آگ والا بنایا ہے اور آگ کا جو کام ہے وہی آگ کرے گی۔یہ نہیں ہو سکتا کہ آگ پانی کا کام کرے۔ہاں آگ کے آگے مختلف کام ہو سکتے ہیں۔آگ جلاتی بھی ہے اور روٹی بھی پکاتی ہے۔اسی طرح اگر وہ چاہے تو اپنی آگ والی طبیعت کو اچھے رنگ میں بھی استعمال کر سکتا ہے اور بُرے رنگ میں بھی۔لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ آگ پانی بن جائے۔اگر خدا نے اسے آگ بنایا ہے تو وہ پانی والا کام نہیں کر سکتی۔اور اگر پانی بنایا ہے تو وہ آگ کا کام نہیں دے سکتا۔آگ اگر چاہے کہ وہ پانی بن کر آٹا گوندھے تو وہ نہیں کر سکتی۔اسی طرح پانی اگر چاہے کہ وہ آگ بن کر روٹی پکائے تو وہ بھی نہیں کر سکتا۔پس ہر ایک شخص کو اپنی طبیعت دیکھ کر اس کے مطابق نیکی میں ترقی کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔اور اگر کوئی ایسا کرے گا تو وہ اعلیٰ سے اعلیٰ روحانی انعامات حاصل کرے گا۔لیکن اگر وہ اپنی طبیعت کو بدل کر ایک اور رنگ میں نیکی کی جدوجہد کرے گا تو اس کی تمام کوششیں رائیگاں چلی جائیں گی۔نرم یا