خطبات محمود (جلد 13) — Page 88
خطبات محمود AA سال ۱۹۳۱ء ہیں ایک نئی جماعت تو بن گئی لیکن فائدہ کیا ہوا۔اس کی وجہ سے تو فتنہ بڑھ گیا لیکن جب وقت آتا ہے تو تناور درخت بن جاتا ہے۔اس بُور لگتا ہے پھر پھل بنتا ہے۔قوموں کا پھل نیکی و تقوی طاقت و غلبہ ہوتا ہے۔اگر قوم اپنی جنس کو غالب اور عزت والا بنا دے نیکی اور تقویٰ کا سامان پیدا کر دے تو یہی اس کے پھل ہیں لیکن یہ پھل اپنے وقت پر لگتے ہیں اس سے پہلے وہ بھی دوسرے درختوں کی لکڑیوں کی طرح کی لکڑی ہوتی ہے اور جیسے ایک پھل دار درخت کے متعلق اس وقت جبکہ ابھی اس کے پھل دینے کا وقت نہ آئے ایک نادان کردیتا ہے کہ اس میں اور کیکر میں کیا فرق ہے۔ایسا ہی الہی سلسلہ کے متعلق کہہ دیا جاتا ہے۔مگر جس طرح آم کا درخت بھی پہلے کیکر کے درخت کی طرح لکڑی رکھتا ہے مگر دراصل اس میں فرق ہوتا ہے اور وہ یہ کہ کیکر کے درخت کو کبھی شیریں پھل نہیں لگے گا لیکن آم کو لگ جائے گا کیونکہ اس میں پھل پیدا کرنے کی طاقت رکھی گئی ہے جو کیکر میں نہیں۔وہ شروع میں بھی جلانے کے قابل ہوتا ہے اور آخر میں بھی۔لیکن آم کا درخت کو شروع میں پھل نہیں دیتا لیکن اپنی عمر کو پہنچ کر پھل دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے جو سلسلہ قائم کیا وہ دوسرے سلسلوں سے مستثنی نہیں ہو سکتا۔خدا تعالی کے کام ایک ہی جیسے ہوتے ہیں۔یہ سلسلہ بھی ابتداء میں ایک سبزی کی طرح پیدا ہوا اسی طرح جس طرح اور سبزیاں پیدا ہوتی ہیں۔خواہ مضبوط درخت کی روئیدگی ہو پہلے پہل اسے بچہ بھی مل سکتا ہے۔دیکھنے والوں نے کہاد عومی تو اتنا بڑا کیا جاتا ہے لیکن ماننے والے چار پانچ ہی ہیں۔یہ ایسا ہی وقت تھا جبکہ درخت کی کونپل نکلتی ہے اور بچہ بھی اسے مسل سکتا ہے۔پھر یہ کو نپل بڑھنی شروع ہوئی۔اس وقت لوگوں نے دیکھ کر کہا کیا ہوا یہ ڈنٹھل ہی تو ہے اس کا کیا فائدہ پھر جب وہ اور طاقت پکڑنے لگی تو کہنے والوں نے کہنا شروع کیا یہ تنا تو بن گیا لیکن کیکر اور بکائن کے مقابلہ میں اس کی کیا حقیقت ہے نہ وہ پھل دیتے ہیں نہ یہ پھل دیتا ہے۔پھر تا بڑھنا شروع ہوا اس پر یہ کہنا شروع کیا کہ اب یہ نازک لکڑی نہ سہی سخت ہی سہی مگر لکڑی ہی ہے اس میں اور کیکر کی لکڑی میں کیا فرق ہے۔جب لوگ یہ کہہ رہے تھے تو باغبان کی آنکھ دیکھ رہی تھی کہ اسے ضرور پھل لگے گا اور وہ اس کی پرورش کر رہا تھا۔ایک بے وقوف بے شک بکائن اور کیکر کے درخت میں اور کھجور اور آم کے درخت میں کوئی فرق نہیں دیکھے مگر باغبان ان کا فرق ضرور جانتا ہے۔اسے اگر کیکر کے دس میں درخت کاٹ کر بھی آم کا ایک درخت بچانا پڑے تو وہ کیکروں کو کاٹ دے گا۔اگر بکائن کے کئی درخت اکھیڑ نے پڑیں تو ان کو