خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 62 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 62

خطبات محمود Чр ایم کو کھلاتے ہے۔اگر چہ ترقی کا زمانہ آگیا اور رسول کریم ملی پر سے ، لیف اور مصائب کا ل لم زمانہ گذر گیا پھر یہ تکالیف ہمیں ہی نظر آتی ہیں آپ انہیں تکالیف نہ سمجھتے تھے مگر حضرت عائشہ کے گلے کو عمدہ آئے والی روٹی پکڑ لیتی تھی اور آپ کے آنسو رواں ہو جاتے تھے۔اب اس کا ہم پر بھی اثر ہوتا ہے اور میں تو جب یہ واقعہ پڑھتا ہوں یا بیان کرتا ہوں تو میرے گلے میں بھی کوئی چیز پھنسنے لگتی ہے۔حالانکہ بظاہر یہ امر ہنسی کے قابل معلوم ہوتا ہے کیونکہ اب اس زمانہ کو چودہ سو سال گزر چکے۔خدا تعالیٰ نے رسول کریم میل پر بعد میں بہت فضل بھی کئے ، آپ میر کو وفات سے قبل فتوحات بھی دیں ، طاقت دی ، پھر آپ کے غلاموں کو طاقت اور بادشاہت عطا کی وہ بڑے بڑے بادشاہوں کے تخت پر متمکن ہوئے اور ان کے زیور اور لباس آپ میر کی پیشگوئی کے مطابق غریب مسلمانوں میں تقسیم کئے گئے گویا بالکل نئے حالات پیدا ہو گئے مگر آج بھی محمد رسول الله ما امی کی تکلیف کا کوئی واقعہ پڑھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی چیز دل کو مسلنے لگ گئی ہے۔یہ بظاہر ایک مجنونانہ ہی بات ہے مگر کیا تم میں سے کوئی ہے جو اس جنون کو چھوڑنے کے لئے تیار ہو۔دنیا کی تمام عقلیں اس جنون پر قربان اور دنیا کی تمام خوشیاں اس رنج پر فدا کرنے کے قابل نظر آتی ہیں۔کیوں؟ اس لئے کہ رسول کریم مالا مال الملک کو خدا تعالیٰ نے ایسے اخلاق دیئے کہ اس چھری نے آج چودہ سو سال کے بعد بھی ہم سب کو ذبح کر رکھا ہے۔آپ مل کے اخلاق آج بھی ہمارے دلوں پر اپنا اثر ڈال رہے ہیں۔گویا آپ اسلام کے اخلاق وائرلیس کا سب سے بڑا آلہ تھا۔وائرلیس کا آلہ دس پندرہ ہزار میل پر خبر پہنچا سکتا ہے مگر رسول کریم میں مالی کے اخلاق وائرلیس کا ایسا زبر دست آلہ ہیں کہ نہ صرف اپنی زندگی میں بلکہ آج چودہ سو سال بعد بھی وہ خبر برابر چلی جارہی ہے۔دراصل یہ ہے صحیح رمضان جو نہ صرف اپنے اندر گرمی پیدا کر دے بلکہ دوسروں کے دلوں کو بھی گرما دے۔اور ضرورت ہے کہ ہم اپنے آپ کو اور اپنی نسلوں کو بھی اسی گرمی سے گرما دیں۔مومن کو ہر بات میں لوگوں سے آگے ہونا چاہئے اور اسے صبر نہیں آنا چاہئے جب تک سب سے بالا مقام پر نہ پہنچ جائے۔مومنانہ غیرت یہ کس طرح گوارہ کر سکتی ہے کہ نہ ماننے والے ماننے والوں سے کسی بات میں آگے بڑھ جائیں۔لیکن کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ مومن تو دنیا میں صرف چند لاکھ ہوں اور منکر کروڑوں کی تعداد میں ہوں۔کیا کوئی زندہ قوم اس ذلت کو برداشت کر سکتی ہے۔پس تم جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے والے کہلاتے ہو اور آپ کے ذریعہ محمد رسول اللہ مین ایم کے سپاہیوں میں داخل ہو چکے