خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 61 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 61

خطبات محمود 41 کل مسلمان خیال کرتے ہیں کہ خاص قواعد کی پابندی سے ترقی ہو سکتی ہے۔حالانکہ ترقی کا انحصار اخلاق پر ہے۔جب اخلاق مضبوط ہوں تو ظاہری طور پر کوئی قوم خواہ کتنی کمزور کیوں نہ ہو وہ برابر بڑھتی چلی جاتی ہے۔انبیاء کی جماعتیں کیوں اس قدر ترقی کر جاتی ہیں اس وجہ سے کہ ان کے اخلاق اعلیٰ ہوتے ہیں۔ان کے راستہ میں جو روک آتی ہے وہ اس پر غالب آجاتے ہیں۔ان کے دشمن گو بهت مال دار اور صاحب حکومت ہوتے ہیں مگر وہ ذلیل در سوا ہو جاتے ہیں کیونکہ اخلاق کی تلوار کے مقابلہ میں کوئی نہیں ٹھر سکتا۔اوہے کی تلوار بہت تھوڑے لوگوں کو قتل کر سکتی ہے۔مگر اخلاق کی تلوار بہت کام کرتی ہے۔رسول کریم ملی است ولی اگر لوہے کی تلوار سے دنیا کو فتح کرتے تو آپ میں کی وفات کے بعد یہ تلوار زنگ آلود ہو جاتی۔مگر چونکہ آپ نے اخلاق کی تلوار سے دنیا کو فتح کیا اور نئی زندگی عطاء کی اس لئے چودہ سو سال کے قریب گذر جانے کے بعد بھی آپ کی تلوار اسی طرح لوگوں کو اپنے آگے جھکا رہی ہے جس طرح پہلے زمانے میں جھکاتی تھی۔ہم لوگ کون ہیں ؟ وہی جنہیں محمد رسول اللہ کی تلوار نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے ذریعے ذبح کیا۔ہم لوگ وہ بکریاں ہیں جنہوں نے اپنی مرضی سے وہ چھری اپنی گردنوں پر چلوائی اس لئے ہمیں نئی زندگی عطا کی گئی لیکن جن کی گردنوں پر وہ زبردستی چلائی جاتی ہے وہ ہمیشہ کے لئے مرجاتے ہیں۔خدا تعالیٰ کے انبیاء گڈریا اور رائی ہوتے ہیں اور تمام دنیا ان کے سامنے بکریوں کی مانند ہوتی ہے۔جو لوگ اپنی مرضی سے اپنی گردنوں پر تلوار چلاتے ہیں انہیں نئی زندگی عطا کی جاتی ہے لیکن جن گردنوں پر وہ خفگی اور ناراضگی سے چلائی جائے وہ ہمیشہ کے لئے نابود ہو جاتے ہیں۔ہمیں اپنے حالات اور تکالیف یاد کر کے استاد کھ نہیں پہنچتا جتنا محمد رسول اللہ کی تکالیف اور مصائب کا حال پڑھ کر ہوتا ہے۔وہ حالات یا د کر کے آج بھی ہچکی بندھ جاتی ہے۔ایک چھوٹی سی بات ہے۔رسول کریم کی وفات کے بعد جب مسلمانوں کو ترقیات حاصل ہو ئیں۔اور ہر قسم کے آرام و آسائش کے سامان مہیا ہو گئے تو ایک دفعہ ایک عورت نے حضرت عائشہ کو دیکھا آپ عمدہ آٹے کی روٹی کھارہی تھیں اور آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔اس نے دریافت کیا کہ یہ کیا بات ہے۔آپ نے فرمایا میں یہ روٹی کھا تو رہی ہوں کیونکہ خدا کی نعمت ہے مگر تکلیف بھی محسوس کر رہی ہوں کیونکہ رسول کریم میں الم کے زمانہ میں چکیاں نہ ہوتی تھیں۔ہم پتھروں پر دانے کوٹ کر آٹا بناتے تھے جو بہت موٹا ہو تا تھا اور اس کی روٹیاں رسول کریم مولی کھایا کرتے تھے۔اگر آپ میں لیا اور آج زندہ ہوتے تو ہم یہ روٹیاں آپ