خطبات محمود (جلد 13) — Page 583
ن محمود ۵۸۳ سال ۶۱۹۳۲ سکتے ہیں۔لیکن ہر شخص کی طبیعت ایک جیسی نہیں ہوتی كُلٌّ يَعْمَلُ عَلَى شَاكِلَتِهِ " غرض سوائے چودھری صاحب کے دوسرے لوگ اس طرف متوجہ نہیں حالانکہ ہمارا فرض ہے کہ ہم تمام قسم کے لوگوں کو اپنے اندر شامل کریں تا ہماری روحانی اور تمدنی ترقی ہو۔دین اور ہدایت جس طرح صرف امیروں کے لئے نہیں اسی طرح اس کے مالک صرف غریب ہی نہیں۔میں نے بتلایا ہے اور لوگ تو الگ رہے ہمارے مبلغوں کی بھی اس طرف توجہ نہیں۔ان سے یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ جس علاقہ میں جائیں وہاں کے بڑے لوگوں اور افسروں سے مل ہی آئیں اور واقفیت پیدا کر کے انہیں تبلیغ کریں۔یہ میں صرف دیسی اعلیٰ افسروں کے متعلق ہی نہیں کہتا بلکہ کوئی وجہ نہیں جب ہم ولایت میں تبلیغ کرتے ہیں تو ہندوستان میں رہنے والے انگریز افسروں کو تبلیغ نہ کریں۔آج کل انگریز فوجی افسروں میں یہ رو چلی ہوئی ہے کہ وہ اسلام کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔جنگ عظیم میں جب یہ اسلامی ممالک میں گئے تو وہاں ان کو اسلام کی طرف توجہ پیدا ہو گئی۔ہمیں اس کرو سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ایک موقع پر ایک ذمہ دار اور بار سوخ جرنیل نے خود بیان کیا کہ مجھے اسلام سے بے حد دلچسپی ہے اور فوج کے اور بہت سے عہدیداروں میں یہ خیال پیدا ہو رہا ہے۔ایک اور فوجی افسر نے اسلام کی طرف اپنا رحجان ظاہر کیا۔وہ اسلام کے اصول سے تفصیلی طور پر تو واقف نہیں تھا۔اس کو چند باتیں بتلائی گئیں اور کچھ لڑیچر بھی دیا گیا۔اس نے اسے پڑھنے کا وعدہ بھی کیا لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اپنے فرائض کی نوعیت کے باعث ہمیں پڑھنے کے لئے زیادہ فرصت نہیں ملتی۔جو باتیں گفتگو میں سن لیں سن لیں۔دوسری کتابوں میں سے بھی صرف محکمہ کی کتابیں مجبور ا پڑھنی پڑتی ہیں۔آخر میں اس نے پھر اعتراف کیا کہ اسلام کے اصول کا اس کے قلب پر بہت اثر ہے۔اس کے بعض اور فوجی دوست بھی اس طرف مائل ہیں۔خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب امام مسجد لنڈن کی رپورٹوں سے بھی پایا جاتا ہے کہ فوج کے افسر اسلام کی طرف بهت میلان ظاہر کر رہے ہیں۔دوسرے بہت سے مختلف علاقوں سے ایسی رپورٹیں آرہی ہیں۔جب یہ حالت ہے تو کیوں نہ ہم اس سے فائدہ اٹھائیں۔پس ہمارے مبلغوں کو چاہئے کہ جہاں جہاں وہ جائیں وہاں کے افسروں سے ملتے رہیں۔اور پھر آہستہ آہستہ واقفیت کے بعد تبلیغ کریں۔جہاں بار بار ملنے کا کم موقع ہو ایسے لوگوں کو پہلی دفعہ ہی تبلیغ کر دیں۔مثلاً کہا جا سکتا ہے کہ میں فلاں غرض سے یہاں آیا تھا آپ کی موجودگی کا علم پا کر میں نے چاہا کہ پیغام حق آپ کو بھی پہنچا دوں۔اس طرح سلسلہ کا نام اس کے گوش گزار کیا جا سکتا ہے۔بسا اوقات چھوٹی چھوٹی باتیں