خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 582 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 582

خطبات محمود ۵۸۲ سال ۱۹۳۲ء خیالات سمجھتے ہوئے آگے پھیلاتا ہے اور قطعا خیال نہیں کرتا کہ ایک چھوٹے آدمی کو بڑا آدمی سمجھ کر وہ اس کے برے خیالات کو قبول کر چکا ہے۔اس طرح ہوتے ہوتے ان غلط خیالات کا دائرہ وسیع ہوتا جاتا ہے اور ہزار ہا طالبعلم وہ خیالات پھیلاتے ہیں جو ان کے پروفیسروں کے ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ تعلیم کی ترقی سے بجائے اس کے کہ ہمارے لئے آسانیاں پیدا ہوں ، ہمارے لئے پہلے سے بھی زیادہ مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں۔ایک دفعہ میں نے اسی خیال کو مد نظر رکھتے ہوئے جس کا اظہار کیا ہے ایک دوست سے مجلس مشاورت میں تحریک کرائی تھی کہ حکومت کے بڑے بڑے عہدہ داروں ، زمینداروں اور کارخانہ داروں کو تبلیغ کے لئے ہمیں خاص طور پر توجہ دینی چاہئے۔اور فی الحال اس غرض کے لئے چند مبلغ مقرر کر دینے چاہئیں جو اپنا تمام وقت ایسے لوگوں کو تبلیغ کرنے میں صرف کریں۔جیسا کہ بری عادت ہے اس امر کو مجلس میں پیش کرنے سے پہلے میں نے خاص رہنمائی ضروری نہ سمجھی لیکن جب وہاں معاملہ پیش ہوا تو اس کی شدید مخالفت کی گئی۔ایسے مبلغ کو جو امراء کو تبلیغ کرے امیر مبلغ کا نام دیا گیا اور بڑے زور سے کہا گیا کہ کیا ہماری جماعت میں بھی بڑے چھوٹے کا سوال پیدا ہو نے لگ گیا حالانکہ یہ فرق غیر کا قائم کیا ہوا ہے ، ہم نے قائم نہیں کیا۔اور چونکہ ہمارا فرض ہے کہ ہم امراء کے طبقے میں بھی جائیں اس لئے ہمیں اس کا انتظام کرنا پڑے گا۔غرض اس وقت عام رو اسی طرف چل گئی کہ ہم نے تو سب کو برابر تبلیغ کرنی ہے جو سنتا ہے سے جو نہیں سنتا نہ سنے۔اس وقت بھی میں نے جیسا کہ میری عادت ہے کثرت رائے کا احترام کرتے ہوئے اس کے مطابق فیصلہ دے دیا حالانکہ میں اس کثرت رائے کے فیصلہ کو توڑ سکتا تھا اور ہر خلیفہ کا حق ہے کہ آخری فیصلہ جیسا چاہے صادر کرے۔اپنے اس حق کو جہاں چاہتا ہوں ہر تنا بھی ہوں لیکن اس موقع پر میں نے مناسب نہ سمجھا کہ دخل دوں۔لیکن میں دیکھتا ہوں کہ ملک کے بارسوخ اور بڑے طبقہ میں ہماری تبلیغ بالکل نہیں ہو رہی۔اور یہ لوگ الہی ہدایت سے بالکل محروم ہیں۔ہماری جماعت نے ابھی تک اس طرف بالکل توجہ نہیں کی ، حتی کہ ہمارے مبلغ بھی اس طرف کبھی متوجہ نہیں ہوئے۔سوائے ایک دو آدمیوں کے جن کی تبلیغ سے چند ایک بڑے بڑے گھرانوں میں احمدیت پہنچی ہے بلکہ میں کہہ سکتا ہوں کہ سوائے ایک شخص یعنی چودھری ظفر اللہ خان صاحب کے کوئی اس طرف متوجہ ہی نہیں۔لیکن ان کی اُفتاد طبع کچھ اس قسم کی ہے کہ وہ آہستگی اور سہولت سے چلتے ہیں۔اس تبلیغ کو وہ اگر جوش و خروش سے شروع کر دیں تو شاندار نتائج نکل