خطبات محمود (جلد 13) — Page 578
خطبات محمود 67 سال ۱۹۳۲ء امراء اور حکام کو دعوت الی اللہ کی جائے (فرموده۱۶- ستمبر ۱۹۳۲ء بمقام ڈلہوزی) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔ہر کام کے لئے اللہ تعالٰی نے کچھ دروازے بنائے ہوئے ہیں جب تک ان دروازوں سے گزر کر وہ کام نہ کیا جائے، ترقی اور کامیابی نہیں ہو سکتی۔اللہ تعالٰی فرماتا ہے وَآتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ابوا بهالا کہ دروازوں کے ذریعہ گھروں میں داخل ہوا کرو۔جس قسم کا بھی کوئی گھر ہو ، اسی قسم کے دروازہ سے اس میں داخل ہونا چاہئے۔اگر اینٹ چونے یا گارے کا بنا ہو امکان تو اسی قسم کے دروازہ میں سے گزرنا چاہئے جو ایسے مکان کا ہوا کرتا ہے جو شخص اس طریق کو چھوڑتے ہوئے گھر میں داخل ہونے کی کوشش کرے گا تمام لوگ اس کو بے وقوف کہیں گے۔کوئی شریف عقلمند اور باوقار انسان پسند نہیں کرے گا کہ دروازے کو چھوڑ کر دیوار میں پھاند کر گھر میں داخل ہویا رہتے ڈال کر مکان پر چڑھنے کی کوشش کرے۔سوائے اس حالت کے کہ دروازہ اندر سے بند ہو گیا ہو اور مکان میں داخل ہونے کا کوئی اور ذریعہ نہ رہے۔اسی طرح جو اینٹ مٹی یا چونے کے گھر نہیں بلکہ علمی یا تمدنی گھر ہیں جن کے لئے ہم عام طور پر دائرہ کا لفظ استعمال کرتے ہیں، ایسے علمی یا تمدنی گھر کے لئے اسی طرح کے دروازہ کی ضرورت ہے۔ہماری جمات کو بھی اللہ تعالیٰ نے گھر سے تشبیہ دی ہے اور فرمایا تمہاری جماعت بھی ایک گھر ہے جو اس میں آجائے گاوہ امن میں آجائے گا۔کشتی بھی اسی طرح کا گھر ہی ہے۔دوسرے گھر خشکی پر ہوتے ہیں یہ پانی پر ہوتا ہے۔اس گھر میں بھی انسان دروازہ ہی سے داخل ہو سبھی کامیابی ہو سکتی ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت کامیابی کے لئے کوشش کرتی