خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 548 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 548

خطبات محمود ۵۴۸ سال ۱۹۳۲ء کے اندر اگر کوئی ہاتھ دے گا تو وہ یقینا پس جائے گا۔ایک رس نکالنے والے بلینے کے اندر ہاتھ رکھ دے گا تو بھی ہاتھ سلامت نہیں رہے گا۔آگ کے اندر ہاتھ ڈالو گے تو بھی جل جائے گا۔مگر قرآن مجید ایسی کتاب نہیں جو مشین کی طرح بے اختیارانہ کام کرتی ہو بلکہ وہ زندہ کتاب ہے اور زندہ کتاب زندہ انسانوں کی طرح ہوتی ہے۔ایک بادشاہ اپنے پہریدار کو ایک جگہ کھڑا کرتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ کسی کو اندرمت آنے دو۔اگر کوئی زبر دستی اندر آئے تو اس کو گولی مار دو۔اب کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ جب چور بھی اسی جگہ جاتا ہے جہاں پہریدار کھڑا ہے تو کیا وجہ ہے کہ پہریدار کو تو بادشاہ کچھ نہیں کہتا اور دوسرے کو گولی مارنے کا حکم دیتا ہے۔وجہ یہ ہے کہ بادشاہ مشین کے طور پر نہیں مار تا بلکہ اس کی گولی دشمن کو مارتی اور دوست کو بچاتی ہے۔یہی حال قرآن کریم کا ہے وہ اپنے دوستوں کو آگ کی طرح نقصان نہیں پہنچا تا بلکہ اس کی آیات پھول کی مانہ شگفتہ ہیں جن سے وہ روحانی ترو تازگی محسوس کرتے ہیں۔لیکن یہی قرآن کریم آگ بن کر دشمن کی کھیتی پر گرتا اور اسے بھسم کر دیتا ہے۔یہی قرآن مجید کی خوبی ہے۔وہ کتاب جو یہ دعوئی کرتی ہو کہ وہ مومن و کافر سے یکساں سلوک کرتی ہے یا الفاظ دیگر وہ یہ دعوی کرتی ہے کہ وہ مشین ہے جس سے اچھے اور برے سب کو یکساں حصہ ملتا ہے۔لیکن قرآن مجید مشین نہیں بلکہ وہ زندہ کتاب ہے۔نادان کہتے ہیں کہ قرآن میں آتا ہے هُدًى لِلْمُتَّقِينَ میں متقیوں کے لئے ہدایت نامہ ہوں۔اور ان کے نزدیک یہ قابل اعتراض بات ہے کیونکہ وہ کہتے ہیں کہنا یہ چاہئے تھا میں فاسقوں اور فاجروں کے لئے ہدایت نامہ ہوں۔مگر وہ یہ نہیں سوچتے کہ یہ قرآن مجید کی عظیم الشان خوبی بیان کی گئی ہے۔اگر قرآن مشین کی طرح ہو تا تو وہ سب سے یکساں سلوک کرتا۔ایک یہودی ایک عیسائی ایک ہندو ایک سکھ سب اس کے نزدیک برابر ہوتے۔لیکن چونکہ وہ زندہ کتاب ہے اس لئے مومن و کافر میں امتیاز کرتا ہے۔سوائے ان عام قواعد کے جو کافر و مومن کے لئے برابر رکھے گئے ہیں ان کو چھوڑ کر باقی تمام جگہوں میں قرآن کریم اپنوں اور غیروں ، متقیوں اور غیر متقیوں میں فرق کرے گا۔اور یہی معنی ہیں اس آیت کے کہ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ جو ایمان تقویٰ سے آتا ہے وہ فائدہ پہنچاتا ہے مگر جو ایمان تقویٰ سے حاصل نہیں ہو تا وہ نقصان پہنچاتا ہے جیسے کوئی شخص بادشاہ کے محل میں جائے اور وہ گولی سے زخمی ہو جائے تو کہے کہ بادشاہ اچھا منصف ہے جو اس کے پاس جاتا ہے اسے گولی مار دیتا ہے۔ہر شخص کہے گا کہ یہ غلط ہے اصل بات یہ ہے کہ چونکہ تم نے داخلہ کی اجازت حاصل نہ کی تاکہ تم دوست سمجھے جاتے۔بلکہ چوروں کی