خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 547 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 547

خطبات محمود ۵۴۷ سال ۱۹۳۲ء حکم نہیں جو نقصان زمان ہو۔ریب کے معنی کاٹنے اور قطع کرنے کے ہوتے ہیں۔تو لا ريب فيه کے یہ معنی ہوئے کہ اس میں کوئی ایسی تعلیم نہیں جو کاٹنے والی ہو یعنی نقصان اور ضرر پہنچانے والی ہو۔اب اگر یہ تسلیم کرلیں کہ قرآن مجید پر عمل کر کے دنیا میں فساد واقع ہو جاتا ہے تو لا ریب فیہ جس کا ابتدائے قرآن میں ہی ذکر آیا ہے باطل ہو جاتا ہے۔اور اس صورت میں دو باتوں میں سے ایک ضرور تسلیم کرنی پڑے گی۔یا تو یہ کہ جو کچھ قرآن نے کہا سچ ہے۔اس صورت میں ہمارا قرآن کی تعلیم کو نقصان رساں سمجھنا ہماری عقل کی کوتاہی ہوگی اور اگر قرآن کی پہلی آیت ہی جھوٹی نکلی تو اگلی آیتوں کا کیا اعتبار رہا۔کسی نے کہا ہے خشت اول چون نهد تا ثریا معمار روز دیوار سج اگر پہلی اینٹ ہی معمار ٹیڑھی رکھے گا تو باقی عمارت کہاں درست ہو گی۔اسی طرح اگر وہ پہلی آیت جو بسم الله الرحمنِ الرَّحِيمِ اورسورہ فاتحہ کے بعد جو قرآن عظیم ہے غلط نکلی تو پھرباقی قرآن بھی غلط ہو گا اور اگر قرآن مجید صحیح ہے تو پھر یہ پہلی آیت بھی صحیح ہے کہ ذلِكَ الْكِتُبُ لَا ریب فیہ یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی ضرر والی بات نہیں۔اگر کوئی شخص کہے کہ میرا تجربہ ہے رَيْبَ فِيهِ کہ میں نے قرآن مجید سے فلاں امرمین فیصلہ چاہا مگر اس کا نتیجہ خراب نکلا۔تو اس کا بھی جواب دے دیا کہ هُدًى لِلْمُتَّن قرآن ضرر سے تو پاک ہے مگر ساتھ ہی یہ شرط ہے کہ انسان کا تقویٰ کامل ہو۔اگر تقویٰ کامل نہ ہو تو بہت دفعہ بجائے فائدہ حاصل کرنے کے انسان کو نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔پس اگر کوئی شخص کہتا ہے کہ مجھے قرآن کے کسی حکم پر عمل کرنے سے نقصان ہوا تو میں اسے کہوں گا کہ اگر ایسی ہی بات ہے تو پھر تم متقی نہیں۔کیونکہ اگر تم متقی ہوتے تو قرآن تمہیں۔نقصان نہ پہنچا تا بلکہ فائدہ پہنچاتا۔دوسری جگہ اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتا ہے یہ قرآن منافقوں اور ان کی ذریت کو نقصان پہنچاتا ہے۔مگر مومنوں کے متعلق آتا ہے کہ یہ انہیں کامیابی کی منزل کے قریب لے جاتا ہے۔پس اگر کسی کو قرآن مجید پر عمل کرنے سے نقصان پہنچا ہو تو یقینا اپنے تقویٰ کے نقص کی وجہ سے پہنچا۔اور اگر وہ غور کرے گا تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ قرآن مجید کی غلطی نہیں بلکہ اس کی اپنی ہے۔دنیا میں بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں کہ وہ مشین کی طرح کام کرتی ہیں ان کا اپنا ارادہ اس میں داخل نہیں ہو تا۔مثلا مشین کی سوئی ہے یہ جب چھے گی تو انسان کو زخمی کرے گی۔اس میں یہ قدرت نہیں کہ جسے چاہے زخمی کرے اور جسے چاہے نہ کرے یا ایک کو لہو