خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 540 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 540

خطبات محمود ۵۴۰ 63 سال ۱۹۳۲ء قرآن کریم کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرو (فرموده ۱۹- اگست ۱۹۳۲ء) تشهد و تعوذ سورة فاتحہ اور آیات کریمہ الم ذَلِكَ الْكِتُبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ على تلاوت کے بعد فرمایا :- اللہ تعالیٰ نے دنیا کی راہنمائی اور بہتری کے لئے قرآن کریم نازل فرمایا ہے۔کروڑوں آدمی ہر زمانہ میں اس پر ایمان لاتے رہے ہیں اور مجموعی تعداد مسلمانوں کی آج تک پندرہ ہیں ارب بلکہ اس سے بھی زیادہ گزری ہے۔گویا بنی نوع انسان کی ایک دفعہ کی آبادی کئی دفعہ مسلمان ہو کر مرچکی ہے۔لیکن چونکہ عام طور پر لوگ ایمان اور اسلام کی حقیقت سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے اس لئے جو لوگ ماننے والوں میں ہوتے ہیں ان کا بھی ایک حصہ جزئی یا کلی طور پر نہ ماننے والوں میں شامل ہوتا ہے۔ان کے مونہوں پر ایمان ہوتا ہے ان کی زبانوں پر ایمان ہوتا ہے بسا اوقات انکے چہروں پر بھی ایمان ہوتا ہے۔اور کئی دفعہ ان کے دل میں بھی ایمان ہوتا ہے لیکن باوجود اس کے وہ حقیقت ایمان سے معرا ہوتے ہیں۔وہ ایمان نجات تو شاید حاصل کر لیتے ہیں لیکن ایمان تقرب سے محروم رہتے ہیں۔دنیا میں کئی انسان ایسے ہوتے ہیں جو جاہل کہلانے کے مستحق نہیں ہوتے لیکن باوجود اس کے انہیں کوئی عالم بھی نہیں کہتا۔جس طرح کئی انسان بیمار کہلانے کے مستحق نہیں ہوتے لیکن وہ رستم و اسفندیار کے ساتھی بھی نہیں کہلا سکتے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ قلیل پر قانع ہو جاتے ہیں۔پس وہ نجات تو پا جاتے ہیں لیکن قرب الہی کی نعمت سے محروم رہتے ہیں۔رسول کریم میں ایک دفعہ ایک مجلس میں تشریف رکھتے تھے۔ایک اعرابی آیا اور اس نے