خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 539 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 539

3۔خطبات محمود ۵۳۹ سال ۱۹۳۲ء حضرت خلیفۃ المسیح الاول فرمایا کرتے تھے کہ ایک شخص تھا جس کی تنخواہ اگر چہ کچھ زیادہ نہ تھی مگر اس نے ایک ملازم صرف اس لئے رکھا ہوا تھا تا اس کے ساتھ مل کر نماز باجماعت پڑھ لیا کرے۔ویسے اس کے نوکر کو اور کوئی اتنا کام نہ تھا۔بلکہ تمام کام مالک خود کر لیا کرتا تھا۔نوکر کو اس نے محض اس غرض سے رکھا ہو ا تھا۔تا نماز با جماعت کے ثواب سے محروم نہ رہے۔غرض حقیقت یہی ہے کہ نماز با جماعت ہی اپنے اندر فلاح رکھتی ہے۔اس کے بغیر کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔انسان کے اندر کئی قسم کی کمزوریاں ہوتی ہیں خواہ جہالت کی وجہ سے اور خواہ علم کی کمی کی وجہ ہے۔اور یہ کمزوریاں نیک لوگوں کی صحبت سے ہی دور ہو سکتی ہیں کیونکہ جب انسان دوسرے لوگوں سے ملتا ہے تو اس کا علم تازہ ہو جاتا ہے۔اور لوگوں سے ملنے کا بہترین موقع نماز ہی ہے۔غرض اذان پانچ وقت مومن کو یاد دلاتی ہے کہ بغیر اشتراک اور اتحاد کے کوئی کامیابی نصیب نہیں ہو سکتی۔الفضل ۱۵- ستمبر ۱۹۳۲ء) ل بخاری کتاب الاذان باب من قال ليؤذن في السفر موزن واحد ا بود و دکتاب الصلوة باب كيف الأذان ابن ماجه کتاب الاداب باب الاستغفار البقرة : ۴۴ و بخارى كتاب الأذان باب اثنان فما فوقها جماعة