خطبات محمود (جلد 13) — Page 514
محمود ۵۱۴ سال ۱۹۳۲ء۔تمام ذرائع بھی استعمال کئے پھر بھی اصلاح نہیں ہو سکی تو وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے بری الذمہ ٹھریں گے۔لیکن عام طور پر ایسے حالات میں اصلاح ہو جاتی ہے۔سوائے اس کے کہ خدا تعالیٰ کی کوئی خاص تقدیر کسی کے بارے میں جاری ہو۔لیکن ایسے انسان بہت کم ہوتے ہیں جن کے متعلق خاص نقد یہ جاری ہو۔عام انسانوں کی حالت ایسی ہی ہوتی ہے جیسا کہ نباتات کے متعلق خدا تعالیٰ کا عام قانون جاری ہوتا ہے۔اس کے ماتحت وہ کھاتے پیتے اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے اور جیتے مرتے ہیں۔خاص قوانین جاری کرنے کے لئے انسان کو یا تو شرارت میں ابو جہل اور فرعون جیسا بننا پڑتا ہے یا نیکی میں حضرت مسیح، حضرت موسیٰ اور حضرت رسول کریم م جیسا بنا پڑتا ہے۔بڑے رنگ میں خاص قوانین جاری کرانے کے لئے انسان کو ابو جہل اور فرعون کا مثیل بننا پڑتا ہے۔اور نیک رنگ میں خاص قانون جاری کرنے کے لئے حضرت موسیٰ اور محمد میر کا مثیل۔مگر دنیا میں نہ تو تمام شریر فرعون اور ابو جہل جیسے ہوتے ہیں اور نہ سارے نیک حضرت موسیٰ اور محمد میر جیسے اس لئے وہ عام قانون کے ماتحت ہی زندگی بسر کرتے ہیں۔پس یہ کہنا کہ فلاں کی اولاد کے متعلق خدا تعالی کا کوئی خاص قانون جاری ہوا ہو گا عام لوگوں کے متعلق بعید از قیاس بات ہے۔بے شک ایسا بھی ہوتا ہے جیسے حضرت نوح علیہ السلام کے متعلق خدا تعالی کا یہ قانون کہ ان کا بیٹا سزا پائے گا۔یا ابراہیم علیہ السلام کے متعلق یہ کہ ان کی اولاد میں نبوت قائم کی جائے گی۔یہ خود دونوں اعلیٰ درجہ کے انسان تھے مگر ایک کی اولاد کے لئے اللہ تعالیٰ نے پرے رنگ میں خاص قانون جاری کیا اور دوسرے کے لئے اچھے رنگ میں۔میں اس وقت یہ حکمت بیان کرنے کے لئے کھڑا نہیں ہوا کہ کیوں حضرت نوح علیہ السلام کے لڑکے کے متعلق برے رنگ میں خداتعالی کا خاص قانون جاری ہوا اور کیوں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد کے متعلق اچھے رنگ میں۔اگر چہ خدا تعالی کی کوئی بات حکمت سے خالی نہیں ہوتی مگر اس وقت اسے بیان کرنا میرا مقصد نہیں۔میں اس وقت صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ خاص قانون خاص بندوں کے لئے ہی جاری ہوتے ہیں۔حضرت محم میں یا ای میل کے لئے خدا تعالی کا یہ خاص قانون جاری ہوا کہ سارے عرب میں مخالفت کی آگ بھڑک اٹھی۔خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں بھی یہ بیان فرمایا ہے کہ جب ہم کسی عظیم الشان نبی کو مبعوث کرتے ہیں تو امرنَا مُتْرَفِيهَا فَفَسَقُوا فِيهَا یعنی ہم سب سے بڑے آدمیوں کے دلوں میں مخالفت کی آگ بھڑکا دیتے ہیں اور جتنے زیادہ ہم احکام دیتے ہیں وہ اتنے ہی زیادہ مخالف ہوتے جاتے ہیں لیکن یہ ہر ایک انسان کے