خطبات محمود (جلد 13) — Page 491
لم 3 خطبات محمود ۴۹۱ سال ۱۹۳۲ء اور ان کا بدترین دشمن ہے ہر طالب علم کے دل میں یہ خیال راح مرد کہ تو دنیا کا آئندہ فاتح ہے۔اور نپولین، تیمور بابر کوئی تیرا مقابلہ نہیں کر سکتا کیونکہ تو صحیح راستہ پر ہے اور خدا تیرے ساتھ ہے اور یہ بات تمام علوم سے بڑھ کر ہے لیکن اگر یہ نہیں تو وہ تمام علوم جو تم سکھاتے ہو جہالت کے ایک نقطہ پر قربان کر دینے کے قابل ہیں۔اگر اس چیز کو سمجھو تو دنیا میں کام کر سکتے ہو اور اگر اس کو بھی نہیں سمجھ سکتے تو پھر خدا ہی سمجھا سکتا ہے۔لیکن اسکی سنت ہے کہ وہ نہیں سمجھایا کرتا۔میں ان باتوں کو اس طرح جانتا ہوں جس طرح کوئی اپنے بچے کو جانتا ہے مگر مجھے خدا تعالیٰ نے یہ طاقت نہیں دی کہ گھول کر تمہارے اندر داخل کر سکوں۔اگر تم سیکھ لو تو تمہارا ابھلا ہے وگرنہ میں خدا تعالیٰ کے سامنے بری الذمہ ہوں میں نے ہر موقع پر کھول کر سمجھا دیا ہے اور اس میں کبھی کسی کا لحاظ نہیں کیا کبھی دوست یا دشمن سے نہیں ڈرا اس لئے مجھ پر کوئی الزام نہیں آسکتا کیونکہ میں نے خدا کے فضل سے اپنا فرض ادا کر دیا اگر چہ تم عمر میں مجھ سے بڑے ہو لیکن میں ایسے محسوس کرتا ہوں جیسے چھوٹے بچوں میں باتیں کر رہا ہوں لیکن اس کے باوجود میں مایوس نہیں باوجودیکہ ہر رستہ پر مجھے مشکلات پیش آتی ہیں لیکن میں مایوس نہیں ہوں مجھے یقین ہے کہ خدا تعالی کے وعدے پورے ہو کر رہیں گے۔خدا تعالی کے کلام پر میرا ایمان ہے۔اور اگر میں ہر احمدی کو مرتد ہوتا دیکھوں اور ہر دشمن کو اس کے مٹانے میں کامیاب ہو تادیکھوں تو بھی یہ خیال میرے دل سے نہیں مٹ سکتا کہ احمدیت دنیا پر غالب ہو کر رہے گی تمہاری غلطیاں میرے دل میں غصہ کے بجائے رحم پیدا کرتی ہیں خدا تعالیٰ نے میری آنکھیں کھول دی ہیں میں کسی بات سے بھی پریشان نہیں ہو تا جس طرح ایک بلی آنکھیں بند کر کے چوہے سے کھیلتی ہے اسی طرح میں بھی مطمئن ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ آخر یہ شکار میرا ہے کئی لوگ اسے میری کمزوری بیوقوفی یا غفلت پر محمول کرتے ہوں گے۔ہر ایک نے میری نسبت کوئی رائے قائم کر رکھی ہو گی۔مگر تم اس حقیقت سے آگاہ نہیں۔خدا کی طرف سے وہ نور ابھی تمہیں نہیں دیا گیا کہ ان باتوں کو دیکھ سکو ابھی تم اندھیرے میں نولتے ہو لیکن مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے نو ر دیا گیا ہے اس لئے میں مایوس نہیں ہوں۔مجھے یقین ہے کہ خدا تعالیٰ یا استادوں کی اصلاح کر دے گا اور یا طالبعلموں کی۔تم نے اگر میری بیعت کی ہے تو مجھے استاد کی طرح سمجھو بعض لوگ سنتے ہیں اور مزا لیتے ہیں اور پھر جا کر جرح قدع شروع کر دیتے ہیں۔یہ غلط کہا وہ غلط کہا فلاں بات یوں کہنی چاہئے تھی اور یہ نہیں سوچتے کہ خدا نے ان کو کیوں نہ خلیفہ بنادیا کیوں وہ ان