خطبات محمود (جلد 13) — Page 487
خطبات محمود ۴۸۷ سال ۱۹۳۲ء یا فیل۔اگر یہ چیزیں نہیں اور وہ کامیاب ہوتے ہیں تو یہ کامیابی کچھ بھی نہیں۔اور اس سے وہ ناکامی ہزار درجہ بہتر ہے جس میں یہ چیزیں ہوں۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر صحیح طور پر کام کیا جائے تو یہ باتیں پیدا کرنے کے ساتھ نتیجہ بھی اچھا نکل سکتا ہے۔ضرورت ہے کہ دل میں جوش پیدا کیا جائے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے كُمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةَ كَثِيرَ ا یہ کس طرح ہوتا ہے اسی طرح کہ ان تھوڑوں کو کام کرنے کا ڈھنگ اور سلیقہ آتا ہے۔اگر ہم یہ بات طالب علموں کے اندر پیدا دیں تو وہ غَلَبَت کا نظارہ دکھلا دیں گے۔وہ بچے ہوئے وقت میں ایسے زور کے ساتھ کام کریں گے کہ اعلیٰ درجہ کی تعلیم حاصل کر سکیں گے۔ہاں بعض اوقات خدا تعالیٰ کی مشیت بعض لوگوں کو ظاہری علوم میں کامیاب نہیں ہونے دیتی۔اس صورت میں دینی علم تو بہر حال اس کے کام آسکے گا۔خدا تعالی بعض اوقات یہ بتانا چاہتا ہے کہ ہم جاہلوں سے بھی کام لے لیتے ہیں۔میں نے کبھی کوئی امتحان پاس نہیں کیا۔لیکن سلسلہ میں جب بعض ایم۔اے بی۔اے اور مولوی فاضل خیال کرنے لگے کہ ہماری وجہ سے کام ہو رہا ہے تو خدا تعالیٰ نے ان کے خیال کو غلط ثابت کرنے کے لئے ایک ایسے شخص کو منتخب کیا جسے دنیا کبھی کوئی وقعت نہ دیتی۔میں انگریزی تعلیم سے محروم ہوں بلکہ جن معنوں میں آج کل سمجھا جاتا ہے عربی سے بھی۔لیکن خدا تعالیٰ نے مجھے کھڑا کر کے میرے ذریعہ دونوں انگریزی اور عربی دانوں کو شکست دے دی۔میں ابھی میدان سے نہیں ہٹا اور دشمن بھی ابھی نہیں ہے۔اور میں نہیں جانتا کہ میری باقی عمر ایک منٹ ہے یا پچاس سال لیکن خدا تعالیٰ میرے ذریعہ میرے مخالفوں کو ایسی شکست دے گا جو تاریخی ہوگی۔اگر وہ کہیں کہ پہلے میں پتہ نہ تھا کہ تم چیلنج کرتے ہو تو اب سن لیں مجھے اللہ تعالیٰ نے دنیوی علوم سے اس لئے محروم رکھا تا وہ خود میرا معلم بنے۔اور گو میں انسانی علوم میں فیل ہوں مگر الہی علوم میں پاس ہوں۔باوجودیکہ انسانی نظروں میں جاہل ہوں، جاہل تھا اور جاہل رہوں گا۔مگر اللہ تعالیٰ کی نظر میں عالم ہوں، عالم تھا اور عالم رہوں گا۔پس اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ماتحت کوئی بظا ہر علوم سے محروم رکھا جائے تو خدا تعالٰی اس کا دستگیر ہوتا ہے جیسے وہ میرا ہوا۔اور میں تو ایسے شخص کو کبھی جاہل نہیں کہوں گا جسے خدا تعالیٰ کامیاب کرے اور بڑے بڑے عالموں پر غلبہ عطا کر دے۔پس جب تک اس چیز کے حصول کے لئے اساتذہ اور دیگر افسر کوشش نہیں کریں گے ، حالت اچھی نہیں ہو سکتی۔میں نے دیکھا ہے بعض والدین یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ مذہبی تعلیم زیادہ نہیں ہونی چاہئے اور اساتذہ بھی۔اب تو شاید طالب علم بھی درس سننے آتے ہی نہیں۔جب میں درس میرے و