خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 479 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 479

خطبات محمود 57 تعلیم الاسلام ہائی سکول کے قیام کا مقصد (فرموده ۳- جون ۱۹۳۲ء) سال ۱۹۳۲ء تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- پچھلے ایام میں میں نے ایک خطبہ پڑھا تھا جس میں تعلیم الاسلام ہائی سکول کے طلباء کے نتائج کے متعلق کچھ بیان کیا تھا۔اس مضمون کے متعلق میرے پاس شکایت کی گئی ہے کہ الفضل میں خطبہ کے صحیح الفاظ شائع نہیں ہوئے اور اعبارت ایسی درج کی گئی ہے جس کا مفہوم میرے مفہوم کے خلاف نظر آتا ہے۔میں نے وہ نشان کردہ عبارت پڑھی ہے اور گو میں اس امر سے متفق ہوں کہ میرے محدود مضمون کو بعض الفاظ کے ترک کر دینے کی وجہ سے وسیع کر دیا گیا ہے اور گو اس میں شبہ نہیں کہ ایک مختصری تمہید بھی تھی جسے لکھنے والے نے چھوڑا ہے اور اس وجہ سے مضمون میرے الفاظ کی نسبت کسی قدر زیادہ سخت ہو گیا ہے اس حد تک تو شکایت بجا نظر آتی ہے۔لیکن جہاں تک میں سمجھتا ہوں منشائے مضمون نہیں بدل۔امضمون زیادہ سخت ہو گیا ہے اور شاید زیادہ تکلیف دہ بن گیا ہے لیکن میرا جو مقصود تھا وہ وہی ہے گو شدت پیدا ہو گئی ہے۔بجائے اس بات کے کہ بعض طالب علموں میں یہ نقص ہے یوں معلوم ہوتا ہے کہ سب میں ہے تمہید کی غرض یہ ہوتی ہے کہ بات کی اونچائی نیچائی کو دور کر کے لیول کردے اور چونکہ تمہید کو چھوڑ دیا گیا ہے اس واسطے لیول میں بھی کچھ فرق ہے تاہم مضمون کے منشاء میں کوئی فرق نہیں آیا بسا اوقات اتنی جلدی لکھ نہیں سکتا جتنی جلدی تقریر کرنے والا بولتا ہے۔اور بسا اوقات وہ خود بھی ایک بات کو اچھی طرح سمجھ نہیں سکتا اور بعض ضروری حصوں کو غیر ضروری سمجھ کر چھوڑ دیتا ہے پھر بعض دفعہ وہ اپنے نوٹ کو بھی نہیں سمجھ سکتا اس لئے چھوڑ دیتا ہے۔ایسی غلطیاں ہو سکتی ہیں۔اور چونکہ