خطبات محمود (جلد 13) — Page 472
خطبات محمود سال ۱۹۳۲ء کہ مومن بدی کو نیکی کے ذریعہ مٹاتے ہیں۔مگر تم وہ ہو کہ بدی کو بدی کے ذریعہ مٹانا چاہتے ہو۔اگر قرآن دنیا میں بدی مٹانے کے لئے بدی کا محتاج ہے تو پھر ایسے قرآن کی دنیا کو ضرورت نہیں۔میں دیکھتا ہوں جب تم کسی کو بدی کرتے دیکھتے ہو تو تم میں سے جو لوگ غیرت رکھتے ہیں ان کی آنکھیں سرخ ہو جاتی ہیں۔کچھ بے وقوف ہیں جو لٹھ سے درست کرنا حقیقی علاج سمجھتے ہیں۔اور کچھ ایسے احمق ہیں کہ وہ قتل کرنے کی دھمکی پر اتر آتے ہیں۔یہ سب بے وقوف ہیں۔اور یہ سب جاہل اور اصلاح کے طریقوں سے قطعی طور پر نا واقف۔اگر ان لوگوں میں ذرہ بھی عقل ہوتی تو وہ قرآن کو نذیر سے پڑھتے اور دیکھتے کہ قرآن نے بدی کے مٹانے کا کیا طریق تجویز کیا ہے۔لیکن قرآن پر تو غور نہیں کریں گے اور غصے اور دیوانگی کی حالت میں دوسرے کو سزا دینے کے لئے تیار ہو جائیں گے۔یہ کبھی خیال نہیں کریں گے کہ اپنے دل میں دوسروں کے لئے درد اور سوز پیدا کریں اور اپنے بچوں کے غم میں گداز ہو جائیں۔مگر مارنے کے لئے فور اکھڑے ہو جائیں گے اور پھر شکوہ کریں گے کہ لڑکوں کی اصلاح نہیں ہوتی۔شکایت کریں گے کہ ہماری باتوں کا کوئی اثر نہیں ہو تا۔کیا تم نے کبھی شیشہ میں اپنا مونہہ بھی دیکھا ہے۔کیا تمہارے چہروں پر وہ رقت وہ نور وہ نرمی اور وہ محبت بھی پائی جاتی ہے جو دلوں میں اصلاح کر سکے۔تم بھیڑیوں کے سے چہرے لے کر فرشتوں کا سا کام کرنا چاہتے ہو۔اور پھر شکایت کرتے ہو کہ ہمارے لڑکے درست نہیں ہوتے۔کیوں جب تم اپنے میں سے کسی کو بدی میں مبتلاء دیکھتے ہو تو اس کے لئے رحم اور غم کے جذبات سے پر نہیں ہو جاتے۔کیوں تمہیں ایک ہی خیال آتا ہے کہ اُف بڑا گند ہو گیا۔سوٹالاؤ ہم اس کو دور کریں۔اور تمہیں کبھی خیال نہیں آتا کہ تم خود بھی میں دفعہ دن میں خطا کرتے ہو - غلاظت سے لتھڑے ہوئے ہاتھ سے کون کسی کا کپڑا صاف کر سکتا ہے۔ایک نابینا کب کسی دوسرے کو راستہ بتا سکتا ہے۔ایک ناپاک اور گندا انسان کب دوسرے کو پاک اور مطہر بنا سکتا ہے۔پس پہلے اپنے دل صاف کرو۔پہلے اپنے آپ کو اصلاح کے قابل بناؤ پھر تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اصلاح کے لئے قابلیت بھی مل جائے گی۔پہلے اپنی نابینائی دور کرو پھر اللہ تعالیٰ کا وہ نور بھی تمہیں ملے گا جس سے تم اصلاح کر سکو گے۔لیکن جب تک تم خود اپنی اصلاح نہیں کرتے تم نے دوسروں کی کیا اصلاح کرنی ہے۔خوب یاد رکھو خدا کا تقویٰ اللہ تعالی کی خشیت اور اس کی محبت کسی ایسے شخص کو نہیں ملتی جس کا دل سخت ہو۔جس میں دوسروں کے لئے رقت اور سوز پیدا نہ ہو بلکہ خدا تعالیٰ اپنا نورانی