خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 468 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 468

خطبات محمود ۴۲۸ سال ۳۲ تدبیروں نے۔اور تو اور اگر رسول کریم میں یہ بھی محض تدبیروں سے کام لیتے اور اپنے تجویز کئے ہوئے ذریعوں سے لوگوں کی اصلاح کرنا چاہتے تو یقیناً ایک شخص کی بھی آپ اصلاح نہ کر سکتے۔لیکن رسول کریم میں اللہ نے اپنی تدبیروں سے لوگوں کی اصلاح نہیں کی۔بلکہ اپنے تمام خیالات افکار اور جذبات کو اللہ تعالٰی کی قربانگاہ پر لا کر ڈال دیا۔اور جس طرح نیل گر کی بھٹی میں انسان اپنا کپڑا ڈال کر اسے رنگین کر لیتا ہے۔یہاں تک کہ اس کپڑے کا اپنا کوئی رنگ باقی نہیں رہتا۔اسی طرح انہوں نے صبغة اللہ سے اپنے آپ کو رنگ لیا۔یہاں تک کہ کوئی بھی ذرہ رسول کریم کی بشریت کا باقی نہ رہا۔اور آپ کے تقویٰ کا لباس اسی رنگ میں رنگین ہو گیا جو خد اتعالیٰ کا رنگ تھا۔تب آپ ایسا نمونہ اور ایسی مثال دنیا میں قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ انسان باوجود اپنی گندگی اور خباثت کے جس نے اپنی فطرت کو مسخ کر لیا تھا مجبور ہو کر آپ کی طرف آیا اور قریب کر اس نے بھی وہ رنگ لے لیا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو عطا ہو ا تھا۔پس یاد رکھو تم دنیا کی اصلاح اپنی کوششوں سے نہیں کر سکتے۔مجھے افسوس ہوتا ہے مجھے حیرت ہوتی ہے۔مجھے تعجب ہوتا ہے اور رنج بھی ہوتا ہے۔جب میں یہ دیکھتا ہوں کہ وہ جماعت جسے اللہ تعالیٰ نے دنیا کی اصلاح کے لئے کھڑا کیا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اس لئے قائم کیا ہے تا وہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کا جلال ظاہر کرے۔اس کے بعض افراد کی اولاد نہایت ہی گندہ اور شرمناک نمونہ اخلاق کا دکھا رہی ہے اور وہ اپنے خبث باطن کی وجہ سے دنیا کے خبیث ترین وجودوں سے مشابہت رکھتی ہے۔پھر مجھے حیرت آتی ہے ان والدین پر جو آنکھیں بند کر کے اس خباثت کو بڑھانے میں دن رات کوشاں ہیں۔اور انہیں کبھی خیال نہیں آتا کہ وہ اس کا علاج کریں اور پھر مجھے تعجب آتا ہے ان لوگوں پر جو خدائی کا دعوی کر کے اصلاح کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ اپنی تدبیروں کے ذریعہ انہیں درست کر لیں۔یہ تینوں احمق ہیں۔اور تینوں کا خدا اور اس کے رسول اور اس کے خلیفہ سے کوئی تعلق نہیں۔دنیا میں کبھی تقویٰ اور بے وقوفی جمع نہیں ہو سکتے۔اور نہ تقویٰ اور نا بینائی جمع ہو سکتے ہیں۔تم کبھی بھی ایک وقت میں خدا اور شیطان کا کہنا نہیں مان سکتے۔جس وقت تم خدا کی بات مانو گے اس وقت شیطان کو چھوڑنا پڑے گا۔اور جب شیطان کے پیچھے چلو گے تو خدا کو چھوڑنا پڑے گا۔مجھے حیرت آتی ہے کہ وہ قرآن میں روز پڑھتے ہیں کہ یہ اولاد اور بیویاں تمہارے لئے فتنہ ہیں مگر پھر وہ اس فتنہ سے بچتے نہیں۔نہ معلوم ان کا نور بصارت کس وقت اور کس گناہ کی وجہ سے مارا گیا۔اور نہ معلوم وہ کیوں ظاہری نور میں لیٹے ہونے کے باوجود