خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 443 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 443

خطبات محمود ۴۴۳ سال ۱۹۳۲ء ماننا بذات خود ضروری ہوتا ہے۔ایک اندھا شخص جس نے سورج کو نکلتے اور غروب ہوتے کبھی نہیں دیکھا۔جسے سورج کے نکلنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔اور غروب ہو جانے سے کوئی نقصان نہیں پہنچا۔کیونکہ اس کے لئے تو ہر وقت رات ہی رات ہے ، وہ بھی اس امر پر مجبور ہے کہ سورج نکلنے کا اقرار کرے۔کیا کوئی اندھا شخص کہہ سکتا ہے کہ مجھے اس اقرار کا کیا فائدہ۔ہم کہیں گے گو اس کا فائدہ تو نہیں مگر سچائی کا ماننا بھی تو ضروری ہوتا ہے۔اگر واقعہ یہ ہے کہ سورج نکل آیا تو سچائی کا تقاضا یہی ہے کہ تم اس کا اقرار کرو۔اگر اور حرج کوئی نہیں تو کیا یہ حرج تھوڑا ہے کہ تم ایک سچائی کے منکر ہو جاؤ گے۔اس وقت مغربی تہذیب نے جو ایشیائی تمدن پر حملہ کیا ہے اس میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مسلمان نیکی کو نیکی کے لئے اختیار نہیں کرتے۔اور مغربی تہذیب کے دلدادہ کہتے ہیں مسلمان جنت کے لئے نمازیں پڑھتے اور اللہ تعالٰی کی عبادت کرتے ہیں۔حالانکہ نیکی کو نیکی کی وجہ سے اختیار کرنا چاہئے۔ایسے موقع پر ہم ان کے سامنے یہنی امر پیش کر سکتے ہیں کہ اگر نیکی کو نیکی کے لئے اختیار کرنا چاہئے تو کیوں سچائی کو سچائی کے لئے اختیار نہیں کرنا چاہئے۔اگر بعض احکام صحیح ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ وہ صحیح ہیں تو وجہ کیا ہے کہ ہم انہیں نہ مانیں۔سچائی کی خاطر ہمارا فرض ہے کہ ہم ہر حکم کو خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا۔جب اس کا خدا کی طرف سے ہونا ثابت ہو چکا، اسے تسلیم کریں۔یہ اس سوال کا دوسرا جواب ہے۔پہلا جواب تو یہ تھا کہ اگر ایک حکم اللہ تعالی کی طرف سے ثابت ہو چکا ہے تو پھر انکار کی گنجائش نہیں۔پھر ایسے احکام چاہے فروعی ہوں ماننے کے لحاظ سے اصولی ہوں گے۔دوسرا جواب میں نے یہ دیا ہے کہ نیکی کو نیکی کی خاطر اختیار کرنا بھی ایک تسلیم شدہ اصل ہے۔ہم اس امر پر تو بحث کر سکتے ہیں کہ یہ عقائد بچے ہیں یا نہیں لیکن بچے عقائد کے متعلق یہ نہیں کہہ سکتے۔اگر ہم انہیں نہ مانیں تو کیا حرج ہے۔یہی بڑا جرم ہے کہ ہم ایک سچائی کے منکر ہو جائیں گے۔تیسری بات جو غور کے قابل ہے وہ یہ ہے کہ ہربات کی قدر و قیمت اس کے بیان کرنے والے کی حیثیت سے لگائی جاتی ہے۔میں یہ تسلیم کرنے کے لئے ہر گز تیار نہیں کہ اللہ تعالی کا کوئی حکم ایسا بھی ہے جس کا کوئی فائدہ نہ ہو۔بلکہ میرا یہ دعویٰ ہے کہ اس نے جو بھی حکم دیا اس کا مانتا اپنے ساتھ ضرور فوائد رکھتا ہے۔لیکن بفرض محال مان لو کہ ہمیں ایک چیز کا فائدہ معلوم نہیں۔گو جیسا کہ میں نے بتایا ہے میں تو اس امر کا مدعی ہوں کہ ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے ہر الہی تعلیم کے فوائد اور اس کے نہ مانے کے نقصان بتا سکتے ہیں، لیکن بفرض محال تسلیم کر لو کہ میں معلوم نہیں کہ فلاں حکم کا کیا فائدہ ہے تب بھی ہمیشہ ایسے معاملات میں عدم علم 2