خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 442 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 442

۶۱۹۳۲ ۴۴۲ خطبات محمود باپ اپنے بچے کو حکم دے کہ یہاں بیٹھے رہو میں آتا ہوں یا اور ایسا ہی کوئی چھوٹا سا حکم دے تو کیا بچہ کہہ سکتا ہے کہ یہ فروعی باتیں ہیں ، انہیں اگر میں نہ مانوں تو کیا حرج ہے۔اور کیا کوئی بھی بچہ جو اپنے باپ کے حکم کے متعلق ایسا کے وہ باپ سے تربیت حاصل کرنے کے قابل سمجھا جاسکتا ہے۔یا مثلا ایک افسر کلرک کو حکم دے کہ فلاں خط نقل کر دو او روہ آگے سے کہے کہ یہ تو معمولی مخط ہے۔اگر اسے نقل نہ کیا جائے تو اس سے کو نسا حرج لازم آجائے گا۔اور اگر کلرک اسی طرح جواب دینے لگ جائیں تو کیا کبھی دفاتر کا کام چل سکتا ہے۔جب اطاعت کا سوال آتا ہے تو اس وقت کسی حکم کے بڑے یا چھوٹے ہونے پر نظر نہیں کی جاتی۔بلکہ روح اطاعت کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ پائی جاتی ہے یا نہیں۔اس میں شبہ نہیں۔بعض خطوط معمولی ہوتے ہیں اور اگر وہ ایک وقت نہ لکھے جائیں تو دفتر کو کوئی بھاری نقصان نہیں پہنچ سکتا۔لیکن اگر اس امر کی اجازت دے دی جائے کہ جسے کلرک معمولی سمجھے اس کی نقل نہ کرے تو تمام ڈسپلن اور انتظام درہم برہم ہو جائے۔اس کے علاوہ اور بھی کئی چیزیں ہیں جنہیں اپنی ذات میں کو خاص اہمیت حاصل نہیں ہوتی مگر ان کا روح اطاعت کے ساتھ تعلق ہوتا ہے اس لئے ان کا ماننا ضروری ہوتا ہے کیونکہ روح اطاعت ہی ہے جو ترقی دینے والی ہے۔دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔پس اللہ تعالیٰ کے حکموں کے متعلق یہ کہہ دینا کہ یہ فروعی ہیں ، اگر ان کو نہ مانا جائے تو کون سا حرج لازم آئے گا نہایت خطرناک بات ہے۔پس ہمیشہ یہ بات مد نظر رکھنی چاہئے کہ آیا فلاں حکم خدا کی طرف سے ہے یا نہیں۔اگر ثابت ہو چکا ہو کہ وہ خدا کی طرف سے ہے تو چاہے وہ فروعی نظر آئے یا اصولی ، عمل کے لحاظ سے وہ اصولی ہی ہو گا۔اور اگر وہ خدا کی طرف سے نہیں تو چاہے وہ اصولی ہی کیوں نہ نظر آئے لغو اور بیہودہ ہو گا۔پس روحانی امور میں دیکھنے والی چیز یہ ہوتی ہے کہ آیا وہ تعلیم جس کے متعلق ہمیں تردد ہے ، خدا کی طرف سے نازل شدہ ہے یا نہیں۔اگر وہ خدا کی طرف سے آئی ہے تو پھر اصولی اور فروعی کی بحث ہی لغو ہے۔اور اگر اس طرح بحث کی جائے گی تو نظام قائم نہیں رہ سکے گا۔جب معمولی معمولی باتوں میں بھی نافرمانی کرنے سے کام کے خراب ہو جانے کا اندیشہ ہوتا ہے تو تمام عالم کا نظام جو عظیم الشان ضبط کو چاہتا ہے کیو نکر قائم رہ سکتا ہے۔پس ایک جواب تو یہ ہے جو میں نے دیا۔دوسری بات یہ مد نظر رکھنی چاہئے کہ ہر چیز کے متعلق دنیا میں یہی نہیں دیکھا جاتا کہ اس سے مجھے یا زید یا بکر کو کیا فائدہ پہنچے گا۔بلکہ سچائی اپنی ذات میں بھی ایک حیثیت رکھتی ہے۔اور سچائی کو