خطبات محمود (جلد 13) — Page 386
خطبات محمود ۳۸۶ سال ۱۹۳۲ء دروازے کھلے ہوں تو ساتھ ہی تباہی اور بربادی کے بھی دروازے کھلے ہوں۔اس لئے حمد کے ساتھ ال کا لفظ لگا کر یہ بتا دیا کہ اس کے انعامات کے تمام دروازے کھلے ہیں اور تاریکی کے تمام دروازے بند ہیں۔یہ وہ امید ہے جسے اسلام ہر شخص کے دل میں پیدا کرنا چاہتا ہے اور یہ وہ امید ہے جس کو لے کر ہر قوم دنیا میں ترقی کر سکتی ہے۔وہ لوگ جو دینی لحاظ سے مایوس ہو جاتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ ان کی روحانیت ترقی نہیں کر سکتی ان کی بھی الحمد اللہ ڈھارس بندھاتی ہے اور وہ لوگ جو دنیا کے کاموں میں لگے ہوئے ہیں خواہ وہ سیاسی ہوں یا تمدنی ان کو بھی الْحَمْدُ لِلَّهِ امید دلاتی ہے۔مایوسی ان سے دور کرتی ہے اور انہیں یہ یقین دلاتی ہے کہ تمہاری منزل تمہارے قریب ہی ہے۔پس ہمارے لئے ترقی کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ کہ ہم اپنے حالات میں ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی صفات کو مد نظر رکھیں اور یہ دیکھیں کہ ہمارا واسطہ اللہ تعالی سے کس قسم کا ہے۔یہ وہ گر ہے جو اللہ تعالٰی نے الحمد اللہ کے الفاظ میں ہمیں بتایا۔اسی طرح فرماتا ہے رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شيئا میری رحمت تمام چیزوں پر حاوی ہے اور فرماتا ہے مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا ليَعْبُدُونِ۔میں نے جن و انس کو پیدا ہی اس لئے کیا ہے تاوہ میری عبادت کریں۔اس آیت میں اللہ تعالی نے پیدائش انسانی کی غرض بیان فرمائی ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان کو خدا ترقی دینا چاہتا ہے۔اور وہ خدا جو ترقی دینا چاہتا ہے مایوسی کو کبھی پسند نہیں کر سکتا۔یہی وجہ ہے رسول کریم نے فرمایا لكل داء دواء الا الموت کے سوائے موت کے دنیا کی کوئی ایسی مرض نہیں جس کا خدا نے علاج پیدا نہ کیا ہو۔اور موت کا دروازہ اس لئے نہیں بند کیا کہ اگلے جہان کی ترقیات اس جہان میں انسان کو حاصل نہیں ہو سکتیں اور اگر ہو جائیں تو ایمان لانے کا فائدہ نہیں رہتا۔فرض کرو اس وقت رسول کریم می دنیا میں موجود ہوتے اور ابو جہل بھی موجود ہوتا اور لوگ دیکھتے کہ ابو جہل دوزخ میں جل رہا ہے اور رسول کریم میں جنت میں ہیں تو کفر و ایمان کا امتیاز جا تا رہتا اور ہر شخص جو ابو جہل کو دوزخ میں جلتا دیکھتا کبھی رسول کریم میں یا لیلی کے انکار کی جرات نہ کر سکتا مگر اس طرح ایمان لانے کا اجر نہ رہتا۔پس ایمان کے ساتھ اخفاء کا پہلو بھی ضروری ہوتا ہے۔اگر کوئی شخص کہے کہ میں ایمان لاتا ہوں کہ سورج دنیا کو روشنی پہنچاتا ہے تو یہ ایمان بے کار ہے کیونکہ سورج ہر شخص کو نظر آسکتا ہے۔پس سورج پر ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔اسی طرح اگر رسول کریم میں درد و الم کو جنت میں اور ابو جہل کو دوزخ میں دیکھ کر