خطبات محمود (جلد 13) — Page 385
طبات محمود ۳۸۵ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا منشاء ہے کہ وہ ہمیں ترقی دے کیونکہ وہ ایسی طاقتیں رکھتا ہے کہ معمولی حالت سے انسانوں کو ترقی دیتے دیتے انہیں بلند ترین مقامات پر لے جاتا ہے۔اگر ہم یقین کریں کہ خدا رب العلمین ہے تو خواہ اپنے حالات کے لحاظ سے ہمیں اردگرد مایوسی ہی مایوسی دکھائی دے پھر بھی ہم اسے اپنا نقص تصور کریں گے۔اللہ تعالیٰ کی نسبت ہمارا ہر وقت یہی ایمان ہو گا کہ وہ ہماری مایوسی کو دور کر سکتا اور ہمیں تاریکیوں سے نکال سکتا ہے۔ایک اندھا شخص اپنی نابینائی کی وجہ سے سورج کو نہیں دیکھ سکتا مگر وہ یہ کہتا ہے کہ گو مجھے سورج نظر نہیں آتا مگر سورج ہے ضرور کیونکہ دوسروں کی شہادت اسے تسلی دے دیتی ہے۔اور وہ کہتا ہے کہ گو مجھے اپنی ذات میں سورج کی روشنی نظر نہیں آتی مگر سورج سے انکار بھی نہیں ہو سکتا۔کیونکہ ساری دنیا کہتی ہے کہ سورج ہے۔اسی طرح وہ شخص جو رَبُّ العلمین خدا پر ایمان لاتا ہے اگر اسے اپنے اردگرد مایوسی اور تاریکی ہی نظر آتی ہے ، تب بھی وہ ہر لمحہ اس یقین اور آرزو سے پر ہوتا ہے کہ اس کا ایک خدا ہے جو اسے ترقی دے سکتا اور اس کی تمام کلفتوں کو دور فرما سکتا ہے اور وہ یہ یقین رکھتا ہے کہ اگر مجھے اللہ تعالیٰ کی صفات نظر نہیں آتیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالٰی قدرتوں کا مالک نہیں بلکہ یہ مطلب ہے کہ میں نابینا ہوں۔اس وجہ سے مجھے اس کا جلال اور اس کی قدر تیں دکھائی نہیں دیتیں۔پس ایسا انسان بھی مایوس نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ اس کوشش میں لگا رہتا ہے کہ اسے بینائی حاصل ہو جائے۔وہ مانتا ہے کہ ترقیات کے سامان ہیں مگر کہتا ہے مجھے نظر نہیں آتے تب وہ اس کوشش میں لگ جاتا ہے کہ اس کی آنکھیں روشن ہو جا ئیں تا وہ بھی اللہ تعالی کی قدرتوں کو دیکھ لے۔لیکن جب انسان اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ اسے یقین ہو جاتا ہے کہ رَبُّ الْعلمين خدا ہے۔تب بھی اس کے دل میں ایک شبہ باقی رہ جاتا ہے۔اور وہ یہ کہ مانا خدا انسانوں کو ترقی دینے کا ارادہ رکھتا ہے اور مانا کہ خدا میں طاقت بھی ہے مگر کیا خدا نے اپنے ارادہ کو عمل میں بھی لانا شروع کیا ہے۔ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ بہت سے انسانوں میں ایک خوبی ہوتی ہے مگر ایک وقت ان کی خوبی کا ظہور نہیں ہوا ہو تا۔اسی طرح یہ شبہ پیدا ہو سکتا ہے کہ بے شک خدا رب العلمین ہے مگر کیا اس کی ربوبیت کا ظہور بھی شروع ہو گیا ہے۔اس شبہ کو الحمد اللہ کا دروازہ بند کر دیتا ہے کیونکہ الحمد اللہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ خدا کے احسان نازل ہونا شروع ہو گئے ہیں اور احسان بھی ایسے جو ہر قسم کے انعامات پر مشتمل ہیں۔پس حمد کا جو لفظ رکھا گیا ہے اس نے اس شبہ کا بھی ازالہ کر دیا۔مگر چونکہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ اگر ایک طرف فضل کے