خطبات محمود (جلد 13) — Page 365
خطبات محمود ۳۶۵ سال ۱۹۳۲ء انعامات کی وہ توقع ہے جو تمہارے مخالفوں کو نہیں۔جب تمہارے لئے اللہ تعالٰی کے فضلوں کے وعدے موجود ہیں تو تمہارے لئے ڈر کا کونسا مقام ہے۔اگر ایک کافر بھی باوجود یہ نہ جاننے کے کہ اسے دنیا میں فتح حاصل ہوگی یا شکست ، پھر بھی اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر مصیبت کا مقابلہ کرتا ہے تو وہ مؤمن جسے یقین ہو کہ اگر میں فتح سے پہلے مرگیا تو میرے لئے اللہ تعالی کے حضور جنت مقدر ہے اور اگر فتح حاصل ہو گئی تو دونوں جہاں میں کامیابی اور فلاح ہے کیو نکرلوگوں کا خوف کھا سکتا ہے اور کس طرح اس پر بزدلی اور خوف غالب آ سکتا ہے۔پس ہماری جماعت کے لوگوں کو چاہئے کہ وہ جس کام میں بھی ہاتھ ڈالا کریں اس میں دوسروں سے ممتاز نمونہ ظاہر کیا کریں کیونکہ نمونہ کا ہی دوسروں پر اثر پڑتا ہے۔اگر یہ ناممکن اور بالکل نا ممکن ہے کہ تم آگ جلاؤ اور اس کی گرمی محسوس نہ ہو، برف ہاتھ میں پکڑو اور اس کی خنکی محسوس نہ ہو ، سورج چڑھنے اور اس کی روشنی نظر نہ آئے یا وہ چھپ جائے اور اس کی روشنی موجود رہے تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ تمہارے دلوں میں ایمان ہو مگر اس کے آثار نہ ہوں۔اگر نہیں یقین ہے کہ تم واقعہ میں مؤمن ہو تو اس ایمان کے نشان بھی ہونے چاہئیں۔مونہہ سے ہر شخص کہہ سکتا ہے کہ میرے اندر ایمان ہے لیکن اگر وہ ایمان صرف دعوی ہی دعویٰ ہے اور ایمان اپنی علامات اور نشانات کے ساتھ نظر نہیں آتا تو اسے سمجھ لینا چاہئے کہ وہ ایمان نہیں بلکہ اس کے نفس کا دھوکا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس ایک دفعہ ایک شخص آیا اور اس نے آکر کہا کہ مجھے الہام ہوتا ہے۔میں بھی اللہ تعالی کا نبی ہوں اور مجھے یہ الہام ہوتا ہے کہ میں محمد ہوں میں موسیٰ ہوں میں عیسی ہوں اور میں تمام نبیوں کا مثیل ہوں۔پس جس طرح آپ کو الہام ہوتے ہیں اسی طرح مجھے بھی ہوتے ہیں۔میں کس طرح مان لوں کہ میں اپنے الہامات میں جھوٹا ہوں۔مجھے تو روز خدا کہتا ہے کہ تو محمد ہے، تو موسیٰ ہے تو بیٹی ہے۔میں نے خود تو نہیں سنا مگر جس دوست نے بیان کیا وہ سناتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے کہا جس وقت خدا تمہیں محمد کہتا ہے تو کیا تمہیں محمدیت کی شان بھی عطا فرماتا ہے اور کیا جب وہ تمہیں موسیٰ کہتا ہے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام والی صفات بھی تم میں پیدا ہو جاتی ہیں یا جب بھیسٹی کہتا ہے تو حضرت عیسی علیہ السلام والا حلم اور ان جیسے معجزات بھی تمہیں ملتے ہیں۔کہنے لگا ملتا تو کچھ نہیں مگر خدا مجھے روز کہتا ہے کہ تو محمد ہے ، تو موسیٰ ہے تو بھینی ہے۔آپ نے فرمایا تب معلوم ہوا کہ شیطان تم سے کھیل رہا ہے کیونکہ خدا جب کسی کو کوئی نام دیتا ہے