خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 344 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 344

خطبات محمود مهم مهم سلام سال ۲ وقت حاصل ہو گی جب تم اپنے خدا کو حاضر ناظر جانتے ہوئے اگر دوسروں کے حقوق کو تم نے غصب کیا ہوا ہے تو وہ حقوق ادا کر دو اور اگر تم پر کسی کا مالی یا جانی یا اخلاقا حق ہے تو وہ اسے دے دوو گر نہ اگر تم دوسروں کے حقوق ادا نہیں کرتے تو خواہ دوسرا شخص تم سے ہزار معافی مانگے اس کا درجہ تو بڑھتا جائے گا لیکن تمہارا جرم اور گناہ بھی ساتھ ہی ساتھ بڑھ جائے گا کیونکہ وہ شخص میرے کہنے پر تمہارے پاس گیا اور اس نے مظلوم ہونے کے باوجود تم سے معافی مانگی مگر تم نے باوجو د ظالم ہونے کے اور باوجود اس کے معافی مانگ لینے کے اس کے حقوق کی ادائیگی کا خیال نہ کیا۔اور تم نے اپنے دل میں یہ سمجھ لیا کہ وہ نیچا ہو گیا۔پس اپنے نفوس کو اس غرور میں مبتلاء نہ ہونے دو کہ ہم نے دو سرے کو نیچا دکھا دیا کیونکہ وہ معافی مانگ کر نیچا نہیں ہوا بلکہ اللہ تعالٰی کی۔بارگاہ میں اونچا ہو گیا کیونکہ اس نے خدا کی فرمانبرداری کی اور خلیفہ وقت کی بات مانی مگر تم جو اس وقت اپنے آپ کو اونچا سمجھ رہے ہو دراصل نیچے گر گئے۔جس طرح انسان جتنا اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ میں جھکتا ہے اتنا ہی اس کا درجہ بلند ہوتا ہے حتی کہ حدیثوں میں آتا ہے کہ جو شخص خدا کے لئے نیچے جھکتا ہے خدا اس کو اوپر اٹھاتا ہے یہاں تک کہ اسے ساتویں آسمان پر لے جاتا ہے۔اسی طرح جو شخص اپنے بھائی سے معافی مانگتا ہے وہ نیچے نہیں گرتا بلکہ اس کا درجہ بلند ہوتا اور خدا کے حضور بہت بلند ہو جاتا ہے۔پس مظلوموں کے معافی مانگ لینے کی وجہ سے تم یہ مت خیال کرو کہ جس نے تم سے معافی مانگی وہ تمہارے سامنے گر گیا بلکہ اسے خدا نے اونچا کر دیا اور جس کو خدا اونچا کرے اسے کوئی نہیں جو نیچا کر سکے۔پس اس کے معافی مانگ لینے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ گر گیا یا ذلیل اور رسوا ہو گیا بلکہ اس کے معافی مانگ لینے اور تمہارے غرور اور تکبر کرنے کا یہ مطلب ہے کہ تم اب خدا کے غضب کے خطرہ کے نیچے آگئے کیونکہ جس وقت تم اور وہ دونوں اپنی اپنی ضد پر قائم تھے ، اس وقت تک خدا کا دخل دینار کا ہوا تھا اور اس کی صفات غضبیہ انتظار کر رہی تھیں کہ ان میں سے کون رحمت کی چادر تلے آتا ہے۔پس جس وقت ایک نے اپنے سر کو جھکا دیا اور مظلوم ہونے کے باوجو د ظالم کے پاس آیا اور بے قصور ہوتے ہوئے معافی مانگی اور وہ جس نے اس کا حق دبایا ہو ا تھا، اس پر ظلم کیا تھا اسے مالی یا جانی نقصان پہنچایا تھا، اپنی ضد پر اڑا رہا اور اس نے خیال کیا کہ میں نے بڑی فتح پائی۔میرا حریف آخر ذلیل اور رسوا ہوا تو یاد رکھو! ایسے شخص کے خلاف خدا کے غضب کی صفت جوش میں آئے گی اور اس کی غیرت دم نہیں لے گی جب تک وہ اسے ہیں کر نہ رکھ دے۔