خطبات محمود (جلد 13) — Page 28
خطبات محمود YA۔سال ۱۹۳۱ء کے لئے آسانی اور سہولت کا رستہ اس کے لئے کھل جاتا ہے۔جب وقت کے گا خود بخودا سے نیکی کی طرف رغبت ہوگی۔کیا یہ عجیب بات نہیں کہ ایک افیونی کا جب افیون کھانے کا وقت آئے تو اسے بے چینی شروع ہو جائے لیکن اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضر ہونے کے لئے اگر سچی تڑپ پیدا کر لی جائے تو عین وقت پر انسان کے اندر خود بخود رغبت اور تحریک نہ ہو۔پس جو شخص کسی وقت کوئی نیکی کرتا ہے وہی وقت جب دوبارہ آتا ہے تو پھر اس کے اندر نیکی کی تحریک پیدا ہوتی ہے اس کے مقابلہ میں اسی وقت اللہ تعالیٰ کے فضل کا دروازہ بھی کھل جاتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے پیچھے رہنا پسند نہیں کرتا۔اس کا نام غیور ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ وہ بندہ کے فعل سے بڑھ کر اپنی صفات اس کے لئے ظاہر کرتا ہے اس لئے جب بندہ دوبارہ نیکی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی دوبارہ اس پر فضل نازل کرتا ہے اور پہلے سے زیادہ کرتا ہے اور اس طرح وہ درخت ہمیشہ کے لئے پھل دیتا رہتا ہے۔لیکن تمام کام ایک قسم کے نہیں ہوتے بعض اہم ہوتے ہیں اور بعض چھوٹے جس طرح بعض درخت ایسے ہوتے ہیں کہ انہیں خوردبین سے دیکھا جا سکتا ہے اور بعض اتنے بڑے کہ اگر انسان ان کی چوٹی کو دیکھنے کی کوشش کرے تو سر سے پگڑی یا ٹوپی گر جائے گی۔اسی طرح بعض روحانی اعمال بھی خوردبینی ہوتے ہیں۔اور جس طرح خوردبین سے نظر آنے والے درخت کا پھل بھی اسی نسبت سے ہوتا ہے۔خوردبینی اعمال کے مقابلہ میں فضل بھی اسی حیثیت کا ہوتا ہے اس لئے بہت سے لوگ اس حقیقت سے غافل ہوتے ہیں۔چونکہ ان کی نیکی معمولی ہوتی ہے اور دوبارہ جب وہی وقت آتا ہے تو پھر وہ نیکی کرتے ہیں اور اس کے مقابلے میں فضل بھی نازل ہوتا ہے۔لیکن جس طرح کئی قسم کی نباتات ، دیواروں ، کپڑوں بلکہ بعض دفعہ ہمارے جسموں پر بھی اگتی ہیں مگر ہمیں اس کا احساس نہیں ہو تا اور ظاہر ہے کہ اس کے پھل بھی ایسے ہی ہونگے۔اسی طرح چونکہ بعض لوگوں کے روحانی اعمال خوردبینی ہوتے ہیں اس لئے ان کے پھل بھی ایسے ہی ہوتے ہیں جو بادی النظر میں محسوس نہیں ہو سکتے لیکن جو اعمال بڑے ہوتے ہیں ان کا فضل ایک بڑے درخت کے پھل کی طرح صاف نظر آجاتا ہے جس طرح حضرت ابراہیم کو بڑھاپے میں جبکہ انہیں کوئی امید نہ تھی اولاد کاملنا اور معمولی اولاد نہیں بلکہ ایسی اولاد جس کی پیدائش سے پہلے پیشگوئی کی گئی تھی۔یعنی انهامی اولاد پھر معمولی اولاد نہیں بلکہ جس کے متعلق وعدہ تھا کہ وہ نبی جو دنیا کے لئے مستقل فیضان کا موجب ہو گا اس کی نسل سے ہو گا۔ایسی اولاد کا بڑھاپے میں ملنا پھر آپ کا رویا میں دیکھنا کہ اپنے بچہ کو ذبح کر رہا ہوں اور اسے ذبح کرنے کے لئے