خطبات محمود (جلد 13) — Page 27
خطبات محمود ۲۷ 4 سال ۱۹۳۱ رمضان المبارک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عید ہے فرموده ۲۳- جنوری ۱۹۳۱ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا اللہ تعالیٰ کے فضل اور احسان کے ماتحت پھر ہم میں سے بہتوں کو اس مبارک مہینہ میں سے گذرنے کا موقع ملا ہے جس میں اللہ تعالی کی پاک کتاب نازل ہوئی اور جس کے بارہ میں اللہ تعالیٰ کی پاک کتاب نازل ہوئی ہے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے لئے سب دن برابر ہیں لیکن وہ اپنی وفا کا اظہار کرنا چاہتا ہے۔انسان باتوں کو بھلا دیتا ہے لیکن خدا تعالیٰ اپنے بندوں کے کاموں کو بھلانا نہیں چاہتا۔اس لئے جب کبھی بھی وہ دن آتا ہے جس میں کسی بندہ نے کوئی خاص کام کیا ہو اس دن اللہ تعالیٰ کے خاص فضل نازل ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ کے تمام کام موسموں سے مشابہت رکھتے ہیں اور روحانی کام جسمانی کاموں سے مماثلت رکھتے ہیں۔یعنی جس طرح جسمانی کاموں کے موسم ہوتے ہیں اسی طرح روحانی کاموں کے بھی موسم ہوتے ہیں۔جس طرح ایک درخت وقت پر پھل دیتا ہے اسی طرح جب کسی انسان کو نیکی کی توفیق ملتی ہے اور وہ کوئی خاص قربانی دین کے لئے بنی نوع انسان کے فائدے کے لئے یا خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے کرتا ہے تو جب وہی دن پھر آتا ہے اللہ تعالی اس قربانی کی یاد کے طور پر اس دن پھر اپنے فضل نازل کرتا ہے۔گویا وہ ایک درخت بن جاتا ہے جو اپنے موسم میں پھل دیتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے نیک اعمال کو شجرہ طیبہ قرار دیا ہے۔یعنی وہ ہر سال پھل دیتے ہیں جس دن کوئی شخص نیک عمل کرتا ہے۔اگلے سال پھر اسی دن اس نیک عمل کو پھل لگتا ہے۔اور اگر انسان کو شش کر کے سال کے ۳۶۰ دنوں میں ہی ایسے شجر لگالے تو تمام عمر