خطبات محمود (جلد 13) — Page 308
خطبات محمود ٣٠٨ کرنی پڑی تو تمہیں سمجھ لینا چاہئے کہ آئندہ بھی اگر اللہ تعالٰی کی خاطر تمہیں قربانیاں کرنی پڑیں تو ان سے دریغ نہیں کرنا چاہئے۔اور در حقیقت انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب وہی چیز کرتی ہے جو اللہ تعالی کے راستے میں قربان کی جاتی ہے۔یہ اللہ تعالی کا کام ہے کہ وہ اپنے احسان گنائے کیونکہ وہ احسان کرنے والا ہے اور یہ بندے کا کام ہے وہ اپنی قربانیاں یاد کرے کیونکہ وہ قربانیوں کے لئے پیدا کیا گیا ہے خدا چونکہ ازلی اور ابدی خدا ہے اس لئے قربانی خدا کی طرف سے نہیں ہوتی کیونکہ قربانی ادنی کی طرف سے ہوتی ہے اعلیٰ کی طرف سے نہیں مگر جب اونی قربانی کرتا ہے تو وہ اعلیٰ کی طرف ترقی کر جاتا ہے۔پس بندے کو ہمیشہ اپنی قربانیوں پر نگاہ رکھنی چاہئے جس طرح خدا تعالیٰ اپنے احسانات پر نگاہ رکھتا ہے۔لیکن چونکہ قربانیاں بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ہی ہوتی ہیں اور ان کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے اس لئے بندہ ان قربانیوں پر احسان نہیں جتلا سکتا۔پس اللہ تعالٰی کے لئے اگر چند دن تکالیف برداشت کرنی پڑیں تو برداشت کرو اور اگر اپنے اوقات کو قربان کرنا پڑے تو بخوشی کرو اور محنت اور شوق سے کام کرو اور اپنے نفس کو ایسے طور پر مارو کہ گویا وہ ہے ہی نہیں کیونکہ جب تک انسان اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنے نفس کو ذبح نہیں کرتا وہ ترقی نہیں کر سکتا۔اللہ تعالیٰ کے مامور جب دنیا میں آتے ہیں تو وہ اسی غرض کے لئے آتے ہیں کہ تالوگوں کے نفوس پر موت وارد کر کے انہیں ایک نئی زندگی عطا کریں پس اگر نئی زندگی حاصل کرنا چاہتے ہو تو اپنے آپ پر موت وارد کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں وہی شخص بڑھتا ہے جو اپنے آ۔موت وارد کرتا ہے۔الفضل ۲۴- دسمبر ۱۹۳۱ء)