خطبات محمود (جلد 13) — Page 307
خطبات محمود ۳۰۷ سال ۱۹۳۱ء پیدا ہونے لگتی ہے اور اس کے دل میں یہ خواہش اٹھتی ہے کہ آؤ میں بھی ثواب حاصل کروں۔پس اگر کوئی اور دلیل ان کی سمجھ میں نہ بھی آئے تو بھی یہ دلیل کہ اس کام کے نتیجہ میں اللہ تعالٰی کی طرف سے ثواب ملے گا انہیں ضرور سمجھ آجائے گی اور وہ نہایت شوق کے ساتھ اپنی خدمات پیش کر دیں گی۔پس انہیں سمجھاؤ کہ باہر سے آنے والے مہمانوں کے لئے تکلیف اٹھانی چاہئے اگر چند راتیں جاگنا پڑے اگر چند دن تکالیف برداشت کرنی پڑیں اگر تھوڑے دنوں کے لئے اپنے بچوں سے بے اعتنائی کرنی پڑے اور اگر جلسہ کے ایام میں قادیان کی عورتیں جو ہمیشہ وعظ و نصائح سنا کرتی ہیں تھوڑی سی قربانی کر کے باہر سے آنے والی خواتین کو آگے بیٹھنے کے لئے جگہ دیدیں تو یہ کوئی بڑی قربانی نہیں ہے بلکہ اس طرح خود ان کی تربیت ہو جائے گی اور ایسے رنگ میں ہوگی کہ وہ آئندہ بہتر طور پر کام کرنے کے قابل ہو جائیں گی میں اس کے ساتھ ہی مردوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اگلا جمعہ چونکہ جلسہ کے اندر ہی ہو گا کیونکہ اس دن اللہ تعالٰی کے فضل سے ایک کافی تعداد مہمانوں کی آچکی ہوگی اس لئے انہیں محنت اور اپنے نفس پر تکلیف برداشت کر کے ان دنوں میں کام کرنا چاہئے۔کئی ایسے ہیں جو تکلیف کی برداشت نہیں کرتے اور کئی ایسے ہیں جو محنت سے کام سر انجام نہیں دیتے اور پھر کئی ایسے ہیں جو دوسرے کی تلخ بات کو برداشت نہیں کر سکتے۔مگر یاد رکھو اللہ تعالیٰ کے لئے جو تلخ بات سننی پڑتی ہے اس سے زیادہ شیریں بات اور کوئی نہیں ہو سکتی اس وقت خواہ انسان کو کتنا ہی غصہ آئے اپنے آپ پر قابو رکھنا چاہئے اور کوئی ایسی بات مونہہ سے نہیں نکالنی چاہئے جس سے دوسرے کی دل آزاری ہو۔تم اپنی زندگی میں سے ماضی پر غور کر کے دیکھ لو بہترین لذت تمہیں انہی گھڑیوں میں آئی ہوگی جن میں تم نے خدا کے لئے اپنے نفس پر کوئی تکلیف برداشت کی ہوگی کیا آج ہم اس امر پر خوش ہو سکتے ہیں کہ آج سے چند سال پہلے دین کی خدمت کی وجہ سے ہمیں عزت حاصل ہوئی یا شہرت مل گئی یا روپیہ حاصل ہو گیا لیکن ہم ہمیشہ فخر محسوس کریں گے اگر اللہ تعالیٰ کی رضاء کی خاطر ہم نے گالیاں سنیں یا الزام اپنے سمر لئے یا اپنی بہتک عزت کی پرواہ نہ کی۔اپنے نفسوں کو خوب مولو اور غور کر کے دیکھو تم کونسی چیز فخر کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کیا کرتے ہو کیا یہ کہ خدا کے دین میں داخل ہو کر تمہیں روپیہ مل گیا یا یہ کہ خدا کے دین میں داخل ہو کر تمہیں تکالیف برداشت کرنی پڑیں۔اگر تم اس امر میں فخر سمجھو کہ تمہیں دین کی خدمت کے بدلہ میں روپیہ مل گیا تو یہ اور بات ہے لیکن اگر اس میں فخر سمجھو کہ تمہیں اللہ تعالٰی کی راہ میں تکالیف اٹھانی پڑیں اور تمہیں اپنی عزت یا مال یا جان کی قربانی