خطبات محمود (جلد 13) — Page 291
خطبات محمود ۲۹۱ سال ۱۹۳۱ء تعلیم ہے مگر نہیں یہ بزدلی کی تعلیم نہیں رسول کریم م م کو لوگ سخت تکالیف پہنچاتے تھے مگر آپ ما تبلیغ میں برابر لگے رہتے تھے اور لوگوں کی مار پیٹ سے ڈر کر اسے بند نہیں کرتے تھے وہی بات تمہارے اندر ہونی چاہئے۔قرآن کریم میں مومن کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لوگ ان پر ظلم کرتے ہیں اور وہ تبلیغ حق میں مصروف رہتے ہیں۔پس یہ مت خیال کرو کہ یہ بزدلی ہے بلکہ یہ وہ حقیقی بہادری ہے جو خدا تعالیٰ نے سکھائی ہے۔میں نسلاً بھی کسی بزدل قوم سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ اس نسل کا ہوں جو بارہ تیرہ سو سال تک تلواروں کے سایہ میں پلتی رہی ہے اور مذہبیا بھی میں کسی بزدل مذہب سے تعلق نہیں رکھتا ہم حضرت مسیح کی جماعت کے مشابہ ہیں اور حضرت مسیح وہ تھے جنہوں نے کہا کہ میں صلح کرانے کے لئے نہیں بلکہ تلوار چلانے کے لئے آیا ہوں۔پس ہم بھی تلوار چلانے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں مگر وہ تلوار لو ہے یا فولاد کی نہیں بلکہ دلائل کی ہے ہم یہ کبھی نہیں کر سکتے کہ اپنے عقائد میں کسی قسم کی تبدیلی کر دیں۔بزدلی اس کا نام تھا کہ لوگوں سے ڈر کر اپنے عقائد ترک کر دیتے اس کے لئے ہم کسی صورت میں تیار نہیں۔مگر میں یہ ضرور کہتا ہوں کہ صلح اور محبت کا طریق اختیار کرو ماریں کھاؤ تکالیف برداشت کرو لیکن اپنا کام نہ چھوڑو۔اگر دنیا کے تبلیغ نہ کرو تو اس کی بات مت مانو خواہ سنگسار ہی کر دیئے جاؤ حتی کہ جو تمہارا امام ہے خواہ مقامی اور خواہ جماعت کا وہ یہ فیصلہ کر دے کہ اب برداشت کرنا خود کشی کے مترادف ہے ایسی حالت میں بے شک مقابلہ کرو اور اس صورت میں اگر مارے بھی جاؤ گے تو شہید ہوگے لیکن اس حالت سے پہلے مقابلہ کرنا سلسلہ کے لئے بھی اور خود تمہارے لئے بھی بدنامی کا موجب ہو گا۔پس میں آپ لوگوں سے جو مشکلات میں ہیں (یہ اتفاقی امر ہے کہ میں آج جماعت لاہور کو مخاطب کر رہا ہوں۔اگر چہ یہاں ابھی ایسے حالات پیش نہیں آئے اگر چہ عین ممکن ہے کہ کل یہاں بھی ایسے ہی حالات پیدا ہو جائیں اور اگر نہ بھی ہوں تو بھی بہر حال بالقوة تمام مومن اس تکلیف میں شریک ہیں جو ان کی کسی جماعت کو پہنچائی جارہی ہے اور اس لحاظ سے گویا یہ مصائب سب پر آرہے ہیں) کہتا ہوں کہ خوب یاد رکھو تکلیف کا علاج خدا تعالیٰ نے یہی بتایا ہے کہ صبر سے کام لو دنیا تمہیں دبانا چاہے تو ہر گز مت رہو۔لیکن جس شرارت سے دشمن تم پر حملہ کرتا ہے تم نہ کرو مگر ساتھ ہی اپنا کام ہر گز نہ چھوڑو۔اگر جماعت میں کوئی ایسا دوست ہے جو یہ کہہ سکے کہ میں روزانہ چھ سات گھنٹہ اپنی نوکری یا دو سرا کوئی کام کرنے کے بعد بھی تبلیغ کیلئے اپنے ارد گرد کے ؟