خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 272 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 272

خطبات محمود ۲۷۱ سال ۱۹۳۱ء ایک لعنت ہے حالہ نکہ اگر کوئی شخص شریعت پر عمل کرتا ہے تو اس میں خدا کا کیا فائدہ ہے اگر کوئی شخص نماز پڑھتا ہے تو وہ خدا کو کیا دے دیتا ہے۔کیا جسے صحیح راستہ بتایا جائے وہ رویا کرتا ہے یا شکر گزار ہوتا ہے۔ہم کسی سے قربانی طلب نہیں کرتے بلکہ صرف یہ کہتے ہیں کہ اپنے مال کنویں میں مت پھینکو۔یہ محض جھوٹ اور افتراء ہے کہ خدا کے لئے قربانی کا مطالبہ ہے ہرگز نہیں بلکہ صرف یہ مطالبہ ہے کہ بیج صحیح جگہ پر ڈالو سورۃ بقرہ کے آخر میں خدا تعالیٰ نے اس امر کا ذکر کیا ہے اور فرمایا ہے۔اگر پتھر پر بیچ ڈالو گے تو خواہ اس پر مٹی بھی پڑی ہوئی ہو پھر جب بارش آئے گی بیج بہہ جائے گا ہے۔اس لئے عمدہ زمین میں بیج ڈالو خوب یا د رکھو۔خدا رسول خلیفہ بلکہ کوئی مومن بھی کسی سے قربانی کا مطالبہ نہیں کرتا بلکہ صرف یہ مشورہ دیتا ہے کہ اپنے بیج اچھی زمین میں ڈالو تاوہ ضائع نہ ہوں۔اور اگر اس حقیقت کو ہماری جماعت مجھے لے تو بہت سے کام آسان ہو سکتے ہیں۔بعض نادان خیال کرتے ہیں کہ ہم سے قربانی کرائی جاتی ہے مگر یہ نہیں سوچتے کہ ان کی قربانی سے ہمیں کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔ہماری ذات پر تو وہ خرچ نہیں ہو گا پھر خدا کو بھی کسی کی قربانی کی کیا ضرورت ہے وہ تو خود سونے چاندی کا پیدا کرنے والا ہے۔ہم تو صرف تمہاری بھلائی کا مشورہ دیتے ہیں اور اگر غور کرو تو اس کے لئے شکر گزار ہونا چاہئے کہ ہم نے تمہارے بیج کو ضائع ہونے سے بچالیا۔ہاں اگر کسی کو خداتعالی پر ہی ایمان نہ ہو تو اس کا معاملہ علیحدہ ہے اسے چاہئے پہلے اپنے چشمہ کو صاف کرے اس کا منبع خراب ہے جہاں سے گندہ پانی نکلتا ہے۔جس سے اس کے اپنے جسم اور ارد گرد بھی خرابی پھیلے گی۔اس کے بعد میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے پھر ایک ضرورت کے لئے لاہور جانا پڑا ہے۔میرے بعد مولوی شیر علی صاحب امیر ہونگے دوست جاتی دفعہ بھی مصافحہ نہ کریں اور مجھے راستہ دیدیں کیونکہ جھٹکے سے درد محسوس ہوتا ہے۔میں نے خطبہ کے شروع میں کہا تھا کہ ہمیں اللہ تعالٰی نے ایسا موقع دیا ہے کہ کسی اور کو نصیب نہیں اس کے فضل سے ہمارے لئے ترقیات کے راستے کھل رہے ہیں مگر ضرورت ہے کہ ہم بھی پہلے سے زیادہ خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوں۔میں نے کہا تھا کہ دوستوں کو کم از کم جمعہ کی رات کو تسجد ضرور پڑھنی چاہئے۔آج کل دعاؤں کی قبولیت کا خاص طور پر موقع ہے اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔جب انسان اپنے اندر اخلاص پیدا کر لے اور خدا تعالٰی سے تعلق قائم کرلے تو تمام خدشے اور وساوس دور ہو جاتے ہیں اور اس کے دل میں کسی قسم کی ظلمت باقی نہیں رہتی تمام وساوس خود بخود مٹ جاتے ہیں خواہ ظاہری علوم میں وہ کامل نہ بھی ہو۔رسول کریم میں یہ بالکل ان پڑھ