خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 269 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 269

محمود ۲۶۹ سال ۱۹۳۱ء ہوں کہ ان صاحب نے رکاوٹوں کا اندازہ کئے بغیر یہ لکھ دیا کہ اگر خواب کی بناء پر بیعت نہ کی ہوتی تو میں اسے تو ڑ دیتا حالانکہ میں سمجھتا ہوں اس قسم کی تحریر کے بعد بیعت خواہ وہ خواب کی بناء پر کی گئی ہو یا الہام کی بناء پر اخلاقی طور پر خود بخود ٹوٹ جاتی ہے۔یہ تو ایسی ہی بات ہے کہ کوئی شخص کے خدایا اگر تو میرا خدا نہ ہوتا تو میں تجھے گالیاں دیتا۔سو آج مصافحہ کے متعلق جو انتظام کیا گیا اس کی وجہ یہی ہے کہ پرسوں جب میں باہر گیا تو لوگوں کے ہجوم کی وجہ سے زخم چھل گئے اور اگر چہ پھنسیوں میں اب پیپ نہیں لیکن بعض زخم ہرے ہیں اور میرے زخموں کی کیفیت بھی کچھ ایسی ہے کہ ذراسی تکلیف سے پھر ہرے ہو جاتے ہیں۔اس کے بعد میں دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمیں ایسا موقع میسر ہے جو دنیا میں اور کسی قوم کو نہیں ہمیں اس سے پورا پورا فائدہ اٹھانا چاہئے۔دنیا کے اندر کوئی شخص ایسا نہیں ملے گا جو قربانی نہ کرتا ہو ہم جب یہ کہتے ہیں کہ فلاں شخص قربانی نہیں کرتا تو اس کے معنے صرف یہ ہوتے ہیں کہ جس چیز کے لئے کرنی چاہئے اس کے لئے نہیں کرتا اور جس کے لئے نہ کرنی چاہئے ، اس کے لئے کرتا ہے۔وگرنہ دنیا میں کوئی ذلیل ترین انسان بھی ایسا نہ ملے گا جو کسی نہ کسی چیز کے لئے قربانی نہ کرتا ہو۔ایک مُسرف انسان اپنے نفس کے لئے قربانی کرتا ہے۔لیکن خدا اس کے دین ملک، قوم اور بنی نوع انسان کے لئے نہیں کرتا۔اگر ہم ایک بخیل کو دیکھیں تو وہ بھی قربانی کر رہا ہے اور اس احساس کے ماتحت کہ روپیہ قیمتی چیز ہے وہ اپنے نفس کی قربانی کر رہا ہوتا ہے۔وہ اچھا کھانا نہیں کھاتا، اچھا کپڑا نہیں پہنتا اپنے بیوی بچوں کے آرام و آسائش کا خیال نہیں کرتا اور اس سے بڑھ کر اور کیا قربانی ہو سکتی ہے۔یہی قربانی ہے جو ایک مومن بھی کرتا ہے فرق صرف یہ ہے کہ مومن مال کو خدا کی راہ میں خرچ کر کے اپنے نفس کو تکلیف میں ڈالتا ہے اور بخیل اسے جمع کر کے۔لیکن بات وہی ہے ، ایک اپنی جیب میں روپیہ ڈالتا ہے اور کھاتا پیتا نہیں دوسرا خدا کے رستہ میں خرچ کر کے کم کھاتا پیتا ہے گویا تکلیف کے لحاظ سے دونوں ایک ہیں۔اور جب یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص قربانی نہیں کرتا تو اس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ وہ خدا کی راہ میں قربانی نہیں کرتا وگرنہ دنیا میں ہر ایک انسان قربانی کرتا ہے جس چیز کی خاطر اسے منظور ہوتی ہے اسے بچالیتا اور باقی کو قربان کر دیتا ہے۔مومن کو خدا کی محبت ہوتی ہے اس لئے وہ اسے قائم رکھنے کیلئے باقی سب کچھ قربان کر دیتا ہے لیکن بخیل کو روپیہ عزیز ہوتا ہے جسے بچانے کے لئے وہ باقی چیزوں کو قربان کر دیتا ہے تو قربانی ہر ایک کرتا ہے۔ایک