خطبات محمود (جلد 13) — Page 268
۲۶۸ سال ۱۹۳۱ء ہے یا علاج کرنے والا اس لئے عام طور پر لوگ سنی سنائی بات پر غلط انداز کرلیتے ہیں۔پچھلے لاہور کے سفر کے بعد میری بغل کے نیچے قریباً چار انچ لمبائی اور تین انچ چوڑائی میں پھنسیاں نکل آئی تھیں اور آج پہلا موقع ہے کہ میں بازو کو جسم کے ساتھ جوڑ سکا ہوں یا پرسوں چند منٹ کے لئے ایسا کیا تھا جب ایک جنازہ کے لئے باہر آباد گر نہ میں بازو کو جسم سے ملا نہ سکتا تھا حتی کہ نماز کے لئے بھی گاؤ تکیہ رکھنا پڑتا تھا۔قریباً چالیس پچاس پھنسیاں تھیں لیکن باوجود اس کے میں بعض دوستوں کو ملنے کا موقع دیتا رہا حالانکہ ڈاکٹری مشورہ کے ماتحت مجھے کسی سے نہ ملنا چاہئے تھا اور مکمل آرام کرنا چاہئے تھا تا حرکت بالکل نہ ہو لیکن دوستوں کی ضرورتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے میں انہیں ملاقات کا موقع دیتا رہا۔مگر چونکہ قاعدہ ہے کہ ہر انسان اپنی ضرورت کو زیادہ اہم سمجھتا ہے اس لئے ایک نے جسے ملاقات کا موقع نہ مل سکا مجھے چٹھی لکھی کہ اگر خواب کے ذریعہ میں نے آپ کی بیعت نہ کی ہوتی تو آج اسے توڑ دیتا۔میں سمجھتا ہوں یہ بات انسانی کمزوری سے انتہاء درجہ کی بے خبری کا نتیجہ ہے۔انسان کو خدا تعالیٰ نے بعض قوانین کے ماتحت اس طرح جکڑا ہوا ہے کہ وہ خواہ نبی ہو یا ولی ان سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتا۔اور ان میں سے ایک بیماری ہے۔وہ جب آتی ہے تو سب کے لئے یکساں تکلیف کا موجب ہوتی ہے بلکہ جن کو اللہ تعالیٰ سے تعلق ہوتا ہے یا جن پر کوئی دینی یا دنیادی ذمہ داری ہوتی ہے ان کو تکلیف زیادہ ہوتی ہے کیونکہ وہ زیادہ حساس ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایک دفعہ جب بھڑنے کا ٹا تو آپ سے اسقدر کرب کے آثار ظاہر ہوئے کہ اس عمر کے لحاظ سے مجھے سخت حیرت ہوئی مگر بعد کے دماغی کام نے بتایا کہ اس سے حس زیادہ تیز ہو جاتی ہے اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دوسروں کی نسبت زیادہ تکلیف محسوس ہوتی ہے۔لیکن اس کے علاوہ بھی بعض تکالیف سخت ہوتی ہیں۔اور وہ سخت سے سخت طبیعت والے کو بھی کمزور کر دیتی ہیں۔پس ان حالات کا لحاظ نہ کرنا انسانی کمزوری کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔اس رقعہ کو پڑھ کر مجھے سخت تعجب ہوا حالانکہ میں لیٹے لیٹے بھی کام کرتا رہا ہوں اور دوستوں کو ملاقات کا موقع بھی دیتا رہا ہوں مگر اس میں میں نے یہ امر مد نظر ر کھا کہ جو دوست سال یا دو سال سے نہیں مل سکے ان کو موقع دیا جائے۔لیکن ان صاحب کو میں اسی سال میں پہلے بھی مل چکا ہوں جبکہ وہ کافی عرصہ تک اپنے اور اپنے خاندان کے حالات وغیرہ بیان کرتے رہے۔قریب کے رہنے والوں کو ملاقات کے مواقع دور رہنے والوں سے زیادہ میسر آسکتے ہیں مگر میں حیران