خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 265 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 265

خطبات محمود ۲۶۵ سال ۱۹۳۱ء انسان اللہ تعالیٰ کی حمد کرے اور اپنے افکار و اعمال کو اس کے تابع کرے۔دراصل ناکامی و نامرادی کی دو وجوہات ہوتی ہیں۔انتہائی انکسار جس کا ظل ستی اور غفلت ہوتی ہے اور انتہائی تکبر جس کا ظل ظلم اور غضب ہوتا ہے اور یہ دونوں باتیں حمد کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہوتی ہیں۔الحمد الله کے معنے یہ ہیں کہ سب خوبیاں اور اعلیٰ صفات خدا کے اندر ہیں اور انسان یہ سمجھ لے تو پھر کبریا غرور اس کے نزدیک کس طرح پھٹک سکتا ہے۔تکبر تو اسی وقت پیدا ہو گا جب انسان سمجھے گا میرے پاس کچھ ہے یا میرے اندر فلاں خوبی ہے لیکن جب وہ یہ سمجھے کہ میرا کچھ نہیں جو کچھ ہے اللہ تعالی ہی کا دیا ہوا ہے تو وہ کس طرح فخر کر سکتا ہے جب اس کا اپنا کچھ ہے ہی نہیں تو فخر کس بات کا۔جب انسان یہ سمجھے کہ دراصل سب خوبیوں کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اس کی ظاہری خوبصورتی یا باطنی علم یا حلم سب خدا تعالیٰ نے دیا ہے۔اگر اس کے پاس دولت ہے تو وہ بھی خدا کی عطا کردہ ہے۔اور اگر حکومت ہے تو وہ بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی ہے اور جب ہر چیز خد اتعالیٰ کی طرف سے ہی عطا ہوتی ہے تو کبر کس بات پر ہو سکتا ہے اسی طرح غضب بھی اس طرح پیدا ہوتا ہے کہ انسان سمجھتا ہے دوسرے کا جو فرض تھا وہ میں نے ادا کیا لیکن جب یہ خیال کرے کہ میں کیا اور میری بساط کیا اگر مجھ سے کچھ کام ہوا ہے تو خدا تعالی کی دی ہوئی توفیق ہے۔گویا اگر اپنے کام خدا تعالے کی طرف منسوب کرے تو اس کے لئے کسی کی غفلت پر ناراض ہونے کی کوئی وجہ نہیں - غضب انسان کو اسی وقت آتا ہے جب وہ سمجھتا ہے کہ دو سرا میرے جیسا کام نہیں کرتا۔غضب سے یہاں میری مراد تنبیہہ نہیں کیونکہ تنبیہہ دوسرے کی بہتری کیلئے ہوتی ہے لیکن غضب کے اظہار کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ اپنی بڑائی کا اظہار کیا جائے۔اور فخر کیا جائے اس سے غرض اصلاح نہیں ہوتی بلکہ دو سرے سے اپنے آپ کو اعلیٰ اور افضل ثابت کرنا ہوتا ہے اور یہ جذبہ اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان سمجھتا ہے کہ جس طرح میں کام کرتا ہوں دو سرا کیوں نہیں کرتا لیکن جب وہ یہ خیال کرے کہ میں کچھ نہیں کر تاخد اتعالیٰ ہی مجھ سے کراتا ہے تو وہ بجائے غضب کا اظہار کرنے کے خدا کا شکریہ ادا کرے گا اس نے مجھے کام کی توفیق دی ہے جو دو سرے کو نہیں دی۔ناکامی کی دوسری وجہ انتہائی انکسار ہے۔جب انسان یہ خیال کرے کہ میرے پاس کچھ نہیں ہے اور میں کوئی کام کرہی نہیں سکتا تو نا کام رہ جاتا ہے لیکن جب یہ سمجھ لے کہ خدا تعالیٰ کے پاس سب کچھ ہے اور وہ سب خوبیوں کا مالک ہے اور وہ جسے چاہے دے بھی سکتا ہے۔تو وہ کبھی مایوس