خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 236 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 236

خطبات محمود سال ۱۹۳۱ء دوستی کے مقام پر کھڑا ہو جاتا ہے۔یہ روحانی مقام صدیقیت ہے۔دنیاوی! اسے صدیقیت کا یہ مقام ہے کہ انسان علم میں ترقی کرتا کرتا کسی ایجاد کے موجد یا کسی علم کے بانی سے اس قدر گہرا تعلق اور اتحاد پیدا کر لے کہ اس کے مشابہ ہو جائے۔روحانی صدیق کے متعلق ہم دیکھتے ہیں کہ گو وہ براہ راست خدا سے علم حاصل نہیں کرتا مگر نبی کے ذریعہ حاصل کئے ہوئے علوم کی نہایت صحیح تشریح و تفسیر کرتا ہے۔یہی حال دنیا دی صدیق کا ہے۔پس اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مومن کو چاہئے وہ علوم میں اس قدر ترقی کرے کہ گو وہ کسی چیز کا موجد یا کسی علم کا بانی نہ ہو سکے مگر ایجادات اور علوم کے ساتھ لوگوں کی نظر میں اس کا نہایت گہرا اور کبھی نہ ٹوٹنے والا رشتہ قائم ہو جائے۔چہارم درجہ نبی کا ہے۔روحانی نبی تو خدا سے الفاظ میں الہام پاتے ہیں اور روحانی علوم براہ راست سیکھتے ہیں۔اس کے مقابل ایک مادی نبی بھی ہوتے ہیں جو گو الفاظ میں خدا سے الہام نہیں پاتے مگر خدا سے وحی خفی پا کر دنیا میں علوم پھیلاتے ہیں۔ایڈیسن کہتا ہے بعض اوقات بیٹھے بیٹھے کسی ایجاد کے متعلق بجلی کی طرح درست خیال قلب میں پڑ جاتا ہے۔جیسے یہ مادی نبی ہوتے ہیں ویسے ہی ان کا الہام بھی مادی ہوتا ہے جو ان کے قلب میں القاء ہوتا ہے۔ایک خیال ان کے دل میں ڈالا جاتا ہے۔یہ روز نئے نئے انکشافات کرتے ہیں۔نئے نئے علوم نکالتے ہیں۔اور حیرت انگیز ایجادات سے دنیا کو حیران کرتے ہیں۔خدا تعالٰی مومنوں سے دنیاوی لحاظ سے جو ادنیٰ سے ادنی بات چاہتا ہے یہ ہے کہ وہ اچھی طرح سے دنیاوی علوم حاصل کریں۔پھر یہ کہ وہ اس قدر ان علوم میں کمال حاصل کریں کہ دوسروں کے معلم بن جائیں۔پھر یہ کہ وہ اس قدر ترقی کریں کہ اگر چہ کسی ایجاد کے موجد یا کسی علم کے بانی نہ ہوں تو ہر ایجاد اور ہر علم کے ساتھ اس قدر گہرا تعلق پیدا کریں اور اس میں اس قدر کمال حاصل کریں کہ موجدوں اور بانیوں کے مشابہ ہو جائیں۔اور جب کبھی کسی ایجاد کا ذکر کیا جائے یا کسی نئے علم کے متعلق تذکرہ ہو اس ایجاد کے موجد یا اس علم کے بانی کے ساتھ ہی ان کا نام بھی زبان پر آجائے۔پھر یہ کہ وہ اس درجہ سے بھی ترقی کریں اور نئے نئے علوم نکالیں اور ایجادات کے موجد بنیں۔اگر یہ حالت پیدا ہو جائے تو جھگڑے ختم ہو جائیں کیونکہ جھگڑے لاعلمی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔دنیا میں جس قدر بدیاں پیدا ہوتی ہیں سب جہالت سے اور جتنی نیکیاں پیدا ہوتی ہیں سب علم سے پیدا ہوتی ہیں۔اگر ہر احمدی میں یہ حالت پیدا ہو جائے تو دنیا میں ہی لوگوں کو ایک جنت نظر آجائے۔اُخروی یا روحانی جنت تو ہم لوگوں کو یہاں نہیں دکھا سکتے ہاں یہ جنت دکھا سکتے ہیں۔اگر ہر احمد ہی ان مراتب