خطبات محمود (جلد 13) — Page 230
خطبات محمود ٢٣٠ سال ۱۹۳۱ء نہیں آتا۔یہ ہو سکتا ہے کہ مسلمانوں کو دیکھ کر کسی نے انفرادی طور پر اسے اختیار کر لیا ہو مگر قومی طور پر کسی نے اس کو ویسے قائم نہیں رکھا جیسے رسول کریم می نے قائم کیا ہے۔انفرادی طور پر اگر کسی مذہب کے بزرگ نے ایسا کیا ہو تو یہ علیحدہ بات ہے مگر استخارہ کرنا اسلام کے سوا اور کسی مذہب کا جزو نہیں۔پس استخارہ مسنونہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت اور اس کے خاص فضلوں میں سے ایک بہت ہی بڑا فضل ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں ہو تا کہ کوئی چیز اپنی ذات میں اچھی ہے یا نہیں بلکہ ہو سکتا ہے ایک چیز اپنی ذات میں تو اچھی ہو مگر اس کے درمیانی واسطے ایسے ہوں جو کسی شخص کے لئے ضرر رساں ہوں۔ایسی تمام باتیں جن میں شریعت کا کوئی خاص حکم موجود نہ ہو ان میں استخارہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔مگر جن باتوں کا حکم ہے اور شریعت کہتی ہے کہ ان پر ایمان لاؤ ان صریح احکام پر استخارہ نہیں۔اب مباہلہ کرنا شریعت کا حکم نہیں بلکہ وہ ایک موت کا بات ہے۔اگر کوئی شخص مباہلہ کا اہل ہو اور اس میں شروط پائی جائیں تو مباہلہ ہو سکتا ہے وگرنہ یہ حکم نہیں کہ ہر مسلمان اپنی زندگی میں کم از کم ایک دفعہ ضرور مباہلہ کرے۔غرض شریعت کی وہ باتیں جن میں خاص حکم نہیں ہو تا ان میں استخارہ ضروری ہوتا ہے۔ہو سکتا ہے کسی شخص کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور کوئی تقدیر مبرم ہو اور اسے کوئی خاص تکلیف پہنچنے والی ہو جسے دشمن اپنے مباہلہ کا اثر قرار دے لے اور کہہ سکتا ہو کہ اس پر یہ عذاب مباہلہ کی وجہ سے آیا۔ایسا شخص جب استخارہ کرے گا اور اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اگر مناسب سمجھے گا تو اس تقدیر کو ٹلا دے گا اور یا اسے مباہلہ میں ہی شامل ہونے نہیں دے گا۔غرض ایسے انسان کے ساتھ دو سلوکوں میں سے ایک سلوک ضرور ہو گا۔یا تو اللہ تعالٰی اس کی تقدیر کو ٹلا دے گا اور یا اسے مباہلہ کنندگان میں سے نکال دے گا۔پس اگر کسی انسان کے لئے اللہ تعالی کے حضور ایسی تکلیف مقدر ہو جو عذاب سمجھی جائے اور دشمن اسے مباہلہ کا اثر قرار دے سکے تو اللہ تعالٰی استخارہ کی وجہ سے یا تو اس تکلیف کو دور کر دے گا اور یا اسے مباہلہ میں شامل ہونے نہیں دے گا۔تو استخارہ اس بات کے لئے نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بچے ہیں یا نہیں یا یہ کہ وفات مسیح کا مسئلہ درست ہے یا غلط بلکہ اس بات کے لئے ہے کہ انسان دعا کرے الہی اگر اس مباہلہ میں میرا شامل ہونا کسی ٹھوکر کا موجب ہو تو اس میں شمولیت سے بچالے اور اگر اس میں میرا شامل ہونا اسلام کی فتح اور احمدیت کی ترقی کا موجب ہے تو بھی شامل ہونے کی توفیق عطا فرما۔اور اس میں کیا شبہ ہے کہ بعض دفعہ انسان اپنے اعمال کی شامت سے ایسے نتائج کا محل بننے والا